Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین مستعفی ، کیا شیخ حسینہ کی 'خفیہ فون کال' نے پھنسایا؟

بنگلہ دیش کے صدر شہاب الدین مستعفی ، کیا شیخ حسینہ کی 'خفیہ فون کال' نے پھنسایا؟

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد سے سیاسی بحران کے کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ استعفوں کی لہر دو حکومتی تبدیلیوں کے بعد بھی جاری ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے کئی دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد آج استعفیٰ دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق استعفیٰ کی تصدیق شہاب الدین کے قریبی ساتھی نے کی ہے۔ اگرچہ صدر شہاب الدین نے استعفیٰ کی وجہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت بتائی ہے لیکن پس پردہ اصل کہانی کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک خفیہ فون کال اور ان کے ڈھاکہ واپسی کے منصوبے نے صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ اپریل 2023 میں بنگلہ دیش کی صدارت سنبھالنے والے محمد شہاب الدین کو 2028 تک کام کرنا تھا لیکن انہوں نے آدھی میعاد سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ بنگلہ دیشی آئین کے مطابق انہوں نے اپنا استعفی قومی اسمبلی کے سپیکر حافظ الدین احمد کو پیش کیا جو حال ہی میں تھائی لینڈ سے علاج کروا کر واپس آئے تھے۔ جب میڈیا کی جانب سے ان سے استعفیٰ کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہوں، میرے پاس اس وقت مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ انہوں نے بیماری کو بہانا بتایا ہو لیکن اسے سیاسی دباؤ اور بغاوت کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔ محمد شہاب الدین کوئی معمولی شخصیت نہیں ہیں۔ وہ 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے تجربہ کار اور ملک کی نچلی عدلیہ میں سابق جج تھے۔ جب وہ 2023 میں صدر منتخب ہوئے تو شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کا پارلیمنٹ میں اکیلا دبدبہ تھا۔ جب شیخ حسینہ کو وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور نوجوان طلباء کے زبردست مظاہروں اور پرتشدد مظاہروں کے بعد اگست 2024 میں ہندوستان فرار ہونے پر مجبور کیا گیا تھا، تو شہاب الدین پرانے آئینی انتظام کے ا کلوتے رکن بچے تھے۔ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔ یونس حکومت اور شہاب الدین کے درمیان شروع سے ہی تلخی تھی۔ صدر نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ وہ یونس حکومت کے رویے سے “توہین” محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر جب ان کی تصاویر غیر ملکی سفارت خانوں سے ہٹا دی گئیں۔ بنگلہ دیشی اخبارات پرتھم آلو اور ڈیلی اسٹار کی تحقیقاتی رپورٹس نے اس استعفیٰ کے پیچھے کی اصل کہانی کو سامنے لایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طارق رحمان کی قیادت والی بی این پی کی حمایت یافتہ حکومت شہاب الدین پر استعفیٰ دینے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہی تھی۔ خفیہ لندن کال: انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اطلاع ملی تھی کہ شہاب الدین نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ سے رابطہ کیا ہے، جو کہ مئی میں علاج کے لیے لندن میں تھیں، ہندوستان میں پناہ کی تلاش میں تھیں۔ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوششیں: حال ہی میں، عبوری انتظامیہ کو یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ شہاب الدین ایک بار پھر حسینہ کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتی تنبیہ: انٹیلی جنس معلومات موصول ہونے پر، حکومت نے صدر کو ایک سخت پیغام بھیجا جس میں ان سے عہدہ چھوڑنے کی اپیل کی گئی، کیونکہ انتظامیہ کو اب ان پر اعتماد نہیں رہا۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments