امرتسر/نئی دہلی، 20 جولائی: مجوزہ ہندستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف ملک کے کسانوں نے ایک بار پھر دہلی کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے۔ پنجاب سے کسانوں اور مزدوروں کا ایک بہت بڑا دستہ 21 جولائی کو نئی دہلی کے تاریخی 'کسان گھاٹ' پر منعقد ہونے والی مہاپنچایت میں شرکت کے لیے اتوار کے روز روانہ ہو گیا۔ 'دیش بچاؤ مورچہ' کے بینر تلے بلائے گئے اس ملک گیر احتجاج کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ اس بار ملک بھر سے تقریباً 550 کسان یونینز اور مختلف سماجی تنظیمیں اس تحریک میں یکجا ہو رہی ہیں۔ "ہندوستانی منڈیوں پر امریکی کمپنیوں کا قبضہ منظور نہیں": دہلی روانگی سے قبل بیاس کے مقام پر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کسان مزدور سنگھرش کمیٹی پنجاب کے سرکردہ رہنما جرمن جیت سنگھ بندالہ نے الزام لگایا کہ یہ مجوزہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ ہندوستانی کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کا اصل مقصد ہندوستان کے کروڑوں چھوٹے اور پسماندہ کاشتکاروں کے مفادات کی قربانی دے کر امریکی کارپوریٹ کمپنیوں اور وہاں کے امیر کسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ہندوستانی اور امریکی کسان کا موازنہ اور خدشات: جرمن جیت سنگھ بندالہ نے دونوں ممالک کی زراعت کا فرق واضح کرتے ہوئے دلیل دی: "امریکہ میں زراعت ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے بڑے فارموں کے ذریعے کارپوریٹ سطح پر کی جاتی ہے، اور وہاں کی حکومت اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر کی سبسڈیز (مالی امداد) دیتی ہے۔ اس کے برعکس، ہندوستان کا اوسط کسان صرف دو سے ڈھائی ایکڑ اراضی کا مالک ہے جسے حکومت کی طرف سے برائے نام مالی مدد ملتی ہے۔ اگر اس یکطرفہ معاہدے کے تحت امریکہ کی سستی زرعی مصنوعات اور درآمدات ہندوستانی منڈیوں میں داخل ہو گئیں، تو ہمارا چھوٹا کسان ان کا مقابلہ نہیں کر پائے گا اور دیہی معیشت مکمل طور پر منہدم ہو جائے گی۔" مرکزی حکومت پر امریکی دباؤ کا الزام: کسان رہنما نے مرکز کی موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے ہمیشہ زرعی شعبے کو غیر ملکی اثر و رسوخ اور تسلط سے بچا کر رکھا تھا، لیکن موجودہ مرکز امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس ملک دشمن معاہدے کو نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کے بھیانک اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ چھوٹے کاروباروں کو بھی نگل جائے گا جس سے ملک میں بے روزگاری کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ "دہلی میں روکا تو وہیں دھرنا دیں گے" – احتجاج تیز کرنے کی دھمکی: بندالہ نے واضح کیا کہ پنجاب سمیت مختلف ریاستوں سے لاکھوں کسان 21 جولائی کی مہاپنچایت میں ہر قیمت پر شامل ہوں گے۔ انہوں نے انتظامیہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس یا سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو دہلی کے پنڈال تک پہنچنے سے روکا، تو کسان تصادم کے بجائے اسی جگہ پرامن طور پر بیٹھ جائیں گے جہاں انہیں روکا جائے گا اور وہیں سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس احتجاج کو "محض ایک شروعات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز نے اس معاہدے کو فوری طور پر منسوخ نہ کیا، تو اس تحریک کو اتنی شدت دی جائے گی کہ حکومت کو جھکنا ہی پڑے گا۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments