صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ امریکا میں قیام کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کو کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ نیتن یاہو کے دورہ امریکا کے حوالے سے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم اس وقت ایران کے خلاف برسرِپیکار ہیں گرفتاری ہونی چاہیے تو صرف ان لوگوں کی جنہوں نے ایران کو تباہی کے بھنور میں دھکیلا، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے سابق صدور کو برسوں پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی کے قتل پر ایران کو کئی گنا قیمت چکانا ہو گی، ایران نے امریکی فوجی کو نشانہ بنایا تو بھرپور جواب دیا جائے گا اس حوالے سے وزیر دفاع اور عسکری قیادت کو ہدایات جاری کر دی ہیں امریکی فوج ہر ممکن ردعمل کےلیے تیار رہے امریکی فوجیوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس 7 میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو ان کی انتظامیہ ان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور دیگر امریکی میڈیا کے مطابق ظہران ممدانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے پر نیویارک سٹی کے لا ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شہر کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ قانون سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف وہی اقدام کریں گے جس کی قانون اجازت دے گا۔ ممدانی نے ایک بار پھر اسرائیلی وزیر اعظم کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول نیتن یاہو کا مقام ہیگ ہے، جہاں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) قائم ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے۔ ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کی کوشش کریں گے، تاہم اب بطور میئر انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس حوالے سے ان کے قانونی اختیارات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ممدانی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ اسرائیلی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں، اس لیے آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر کسی کارروائی کا قانونی جواز موجود نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر سکتا ہے، جب کہ حتمی صورت حال کا انحصار ستمبر میں نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ نیویارک اور امریکی حکام کے مؤقف پر ہوگا۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments