✍️ محمد ثاقب حسامی فضاؤں میں تکبیرات کی صدائیں گونجتی ہیں… “اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، لا إلہ إلا اللّٰہ…” اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں پرانا وہ عظیم منظر دوبارہ زندہ ہوگیا ہو، جب ایک بوڑھا باپ اپنی محبتوں کا چراغ ہاتھ میں لیے، وادیٔ منیٰ کی طرف رواں تھا… قدم لرزتے نہیں تھے، کیونکہ دل میں خدا کی رضا تھی۔ آنکھیں نم ضرور تھیں، مگر ایمان کی روشنی آنسوؤں پر غالب تھی۔ اور پھر انسانیت نے وہ منظر دیکھا جس کی مثال رہتی دنیا تک نہ مل سکی — ایک باپ اپنی سب سے عزیز متاع کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے تیار کھڑا تھا، اور ایک بیٹا گردن جھکائے رضا و تسلیم کی تصویر بنا ہوا تھا۔ یہی قربانی کی اصل روح تھی۔ محبتوں کو خدا کے حکم پر قربان کردینا… اپنی خواہشات کو بندگی کے قدموں میں ڈال دینا… اپنی انا کو ذبح کردینا… مگر افسوس! آج اسی قربانی کی روح مروجہ نظام کے شور میں کہیں گم ہوتی جارہی ہے۔ اب منیٰ کی خاموش وادیوں سے زیادہ شہروں کی چکاچوند بولتی ہے۔ اب اخلاص سے زیادہ نمائش کے چرچے ہوتے ہیں۔ اب قربانی عبادت کم اور تفاخر کا اعلان زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ جانوروں کی قیمتیں عزت کا معیار بن گئی ہیں۔ نسلیں اور جسامتیں گفتگو کا موضوع ہیں۔ اور سوشل میڈیا کے بازار میں قربانی بھی ایک “نمائش” بن کر رہ گئی ہے۔ تصویریں، ویڈیوز، تعریفیں، تبصرے… یوں لگتا ہے جیسے دلوں سے اخلاص اٹھ گیا ہو اور اس کی جگہ دکھاوے نے لے لی ہو۔ حالانکہ قربانی تو وہ عبادت ہے جس کے متعلق ربِّ کائنات نے فرمادیا کہ: “نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” مگر آج تقویٰ خاموش ہے اور نمود کا شور بلند۔ مروجہ سرمایہ دارانہ نظام نے اس مقدس عبادت کو بھی تجارت کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ منڈیوں میں لالچ مسکراتا ہے، مصنوعی مہنگائی اپنے پنجے گاڑتی ہے، اور انسان عبادت میں بھی منفعت تلاش کرنے لگتا ہے۔ غربت سسکتی ہے… اور دولت قہقہے لگاتی ہے۔ کئی غریب خواہش کے باوجود قربانی نہیں کرپاتے، جبکہ کئی لوگ قربانی کو اپنی بڑائی کے اشتہار میں بدل دیتے ہیں۔ یہ منظر صرف معاشی تفاوت نہیں، بلکہ روحانی زوال کی علامت ہے۔ قربانی تو یہ تھی کہ انسان اپنی خود غرضی کو ذبح کرتا۔ اپنے تکبر کی گردن پر چھری چلاتا۔ اپنی نفرتوں کو قربان کرتا۔ اپنے دل کو محبت، ہمدردی اور ایثار کا گہوارہ بناتا۔ اگر دل میں حسد باقی ہو، زبان میں جھوٹ باقی ہو، معاملات میں خیانت باقی ہو، اور انسان کے رویّوں میں ظلم باقی ہو، تو پھر محض جانور کا خون بہا دینا قربانی کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ اسلام نے قربانی کے ذریعے انسانیت کو مساوات کا درس دیا تھا۔ کہ امیر و غریب ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ کہ کسی غریب کے چولہے میں بھی خوشبو اٹھے۔ کہ کسی یتیم کی آنکھ میں بھی خوشی چمکے۔ مگر افسوس! آج کئی گھروں کے فریزر بھر جاتے ہیں، اور کئی جھونپڑیوں کے چولہے خاموش رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کو دوبارہ منیٰ کے اس مقدس سبق سے جوڑیں، جہاں اخلاص تھا، وفا تھی، اطاعت تھی، اور خدا کی رضا سب سے بڑی حقیقت تھی۔ آؤ! اس بار صرف جانور ہی نہیں، اپنی انا بھی قربان کریں۔ اپنی نفرتیں بھی ذبح کریں۔ اپنی خواہشات کو بھی خدا کے حضور جھکادیں۔ کیونکہ قربانی صرف ایک عبادت نہیں… یہ انسان کے اندر چھپے ہوئے “ابراہیمؑ” کو جگانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح نصیب فرمائے اور ہماری عبادتوں کو اخلاص کی خوشبو عطا کرے۔ آمین۔
Source: social media
مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے آل انڈیا اردو بک فیئر کاافتتاح
منصور حسن سے جڑی کچھ یادیں
فرحت احساس کی کلیات ’مجھ کو مری یاد آ رہی ہے‘ (اردو/دیوناگری ) کی پُروقار رسمِ اجرا
زکریا اسٹریٹ کولوٹولہ کے معین الدین قریشی عرف مونا بھائی کا انتقال، آج تدفین
شیب پور میںمفت صحت کی جانچ شروع
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی جشن غالب تقریبات کا افتتاح
شیب پور میںمفت صحت کی جانچ شروع
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی جشن غالب تقریبات کا افتتاح
معروف اسلامک اسکالر مفتی سلمان ازہری کی ہوڑہ آمد تاجدار مدینہ کانفرنس میں شرکت کریں گے
بھوٹ بگان اردو گرلس ہائی اسکول کی طالبات میں ممتا بنرجی کے سبوز ساتھی اسکیم کے تحت سائیکلیں دی گئی ہیں: ریاض احمد