Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان: اینڈی برنہم کیئراسٹارمر کی جگہ نئے وزیراعظم ہوں گے

برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان: اینڈی برنہم کیئراسٹارمر کی جگہ نئے وزیراعظم ہوں گے

لندن(17 جولائی 2026): برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اینڈی برنہم بلامقابلہ پارٹی کے نئے لیڈر منتخب ہو گئے ہیں اور وہ کیئراسٹارمر کی جگہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر اس بات کا باقاعدہ اعلان کیا کہ اینڈی برنہم بلامقابلہ پارٹی کے نئے لیڈر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اینڈی برنہم واحد اہل نامزد امیدوار کے طور پر سامنے آئے، جنہیں 379 نامزدگیاں ملیں اور مطلوبہ حد پوری کرنے کے بعد وہ اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر پائے۔ انہیں الحاق شدہ تجارتی یونینز اور سماجی تنظیموں کی جانب سے تمام 11 ٹریڈ یونینز سمیت مجموعی طور پر 23 نامزدگیاں حاصل ہوئیں۔ اپنے انتخاب کے بعد پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے اسے ایک انتہائی یادگار لمحہ قرار دیا اور شاندار تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبر ارکانِ پارلیمنٹ نے فراموش کردہ علاقوں کے عوام کی پکار سن لی ہے، جو دراصل اسی پرانی لیبر پارٹی کی واپسی کا مطالبہ ہے جسے وہ جانتے تھے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ان پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلیں گے جو طویل عرصے سے سیاست میں امید کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کو شاندار کامیابی دلانے پر سابق سربراہ کیئراسٹارمر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارمر کی قیادت میں پارٹی بدترین شکست سے نکل کر سب سے بڑی تاریخی فتح تک پہنچی، انہوں نے عالمی سطح پر برطانیہ کا وقار بحال کیا اور این ایچ ایس میں مریضوں کے انتظار کا وقت کم کرنا ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ ہلزبرو قانون کی حتمی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل انہوں نے کیئراسٹارمر کے ساتھ مل کر اس کا دوسرا ڈرافٹ تیار کیا تھا اور پارلیمنٹ سے اس بل کی منظوری ایک یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر 2009 میں لیورپول کے اینفیلڈ اسٹیڈیم سے شروع ہوا، جہاں انہیں احساس ہوا کہ موجودہ نظام محنت کشوں کے لیے کام نہیں کر رہا اور سیاسی طاقت کا استعمال صرف مفاد پرست طبقے کے لیے کیا گیا جس سے لیبر پارٹی کو بنانے والے خطے پسماندگی کا شکار رہے۔ نومنتخب لیبر لیڈر نے اعتراف کیا کہ سیاستدانوں کی موجودہ نسل مخصوص سیاسی کلچر اور معاشی ماڈل کو چیلنج کرنے میں ناکام رہی جو عام آدمی کے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکا۔ انہوں نے پارٹی کو آگے لے جانے کے لیے 5 اہم اقدامات کا خاکہ پیش کرنے کا اعلان کیا، جس میں پہلا قدم پارٹی کے اندر ’ون لیبر ٹیم‘ کا کلچر پیدا کرنا اور تمام مکاتبِ فکر کا احترام کرتے ہوئے اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک اپنی سینئر کابینہ کے نام طے نہیں کیے، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اس میں پارٹی کے تمام دھڑوں کی بھرپور نمائندگی ہوگی۔ اینڈی برنہم کا کہنا تھا کہ ان کا دوسرا بڑا مقصد ملک میں ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھنا ہے کیونکہ برطانیہ کے عوام موجودہ سیاسی نظام سے شدید بیزار اور لاتعلق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سوشل کیئر جیسے نظرانداز کیے گئے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ممکن ہوا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، لیکن پارٹی کا رخ خالصتاً لیبر کے اصولوں اور نظریات پر مبنی ہوگا۔ تاریخی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے 1980 کی دہائی میں کئی غلط فیصلے کیے، جن کے تحت سیاسی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کیا گیا اور ہاؤسنگ، پانی، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی شعبوں کا کنٹرول نجی شعبے کو دے دیا گیا، جس کے نتیجے میں ملکی دولت مخصوص لوگوں تک محدود ہو گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ایک خطے کے نہیں بلکہ شمال، جنوب، مشرق، مغرب سمیت اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ یعنی پورے ملک کے لیڈر بنیں گے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments