Activities

منصور حسن سے جڑی کچھ یادیں

منصور حسن سے جڑی کچھ یادیں

مغربی بنگال کلکتہ کا زکریہ اسٹریٹ جو پورے ملک اور بالخصوص کلکتہ کا تاریخی علاقہ اس لیے تسلیم کیا جاتا ہے کہ ملک کے جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف اس علاقہ کے اس وقت کے نوجوانوں نےبھی اھم کردار نبھایا تھا، مسجد ناخدا اور کلکتہ خلافت کمیٹی مجاہدین آزادی کا مرکز رہا ملا محمد جان کی مجاہدانہ سرگرمیوں نے مہاتما گاندھی ، مولانا آزاد رحمہ، سی آر داس، امیش چندر بنرجی جیسے رہنماؤں کو اس محلے میں آنے پہ مجبور کر دیا تھا، زکریہ اسٹریٹ نے آزادی سے قبل سے لیکر اور اب تلک انگنت ملی وسماجی خدمتگاروں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ان ہی چند شخصیات میں ایک ہردلعزیز پیاری و محبوب شخصیت دوست منصور حسن کی بھی رہی ہے گزشتہ 6 جنوری 2026 کو فجر کی نماز کے بعد صبح چھ بجے69 برس زمین کے اوپر گزار کردنیا کو خیر باد کہا دنیا میں آنے والا یہ مہمان اپنے احباب و رشتہ داروں کے کاندھوں پہ سوار ہو کر اپنے مستقل مٹی کے چھوٹے سے گھر کو واپس لوٹ گیا " انا للہ و انا الیہ راجعون"بعد نماز مغرب ہزاروں افراد نے گوبرا ایک نمبر شہر خموشاں میں بھائی منصور حسن کو الوداع کہنے کے لیے حاضر ہوئے تھے خاکسار خواجہ احمد حسین بھی کانکی نارہ سے اپنے دوست محمد عبیداللہ بیلگچھیا کے ہمراہ حاضر ہوا جنازہ سے قبل منصور بھائی کا آخری دیدار کرایا گیا جسد خاکی کفن میں لپٹے خاموش منصور بھائی کو دیکھکر آنکھ نم ہو گئ بیٹا شبیر حسن اور پیارا سامعصوم نواسہ مصطفی خان میرے بازو میں غم سے نڈھال تھے ہزاروں کی بھیڑ میں دیگر احباب کے علاوہ کلکتہ خلافت کمیٹی کے صدر و وزیر حکومت مغربی بنگال جاوید احمد خان اور ان کے صاحبزادے فیض احمد خان کونسلر کو منصور حسن کے صاحبزادے شبیر حسن خان کو پرسہ دیتے ہوۓ دیکھا گیا تدفین د دعا کے بعد سب سے آخر میں راقم خواجہ احمد حسین قبرستان سے باہر نکلتے وقت دوست منصور سے جڑی باتیں، ملاقاتیں و پرانی یادیں تازہ ہوگئیں جسے رقم کر رہا ہوں،،1983 میں منصور بھائی سے میری پہلی ملاقات زکریا اسٹریٹ میں ہوئی پھر ھم دونوں بے تکلف ہو گۓ، پاپا ہمایوں حسن انکل سے ملوا یا مجھے یاد ہے انھوں نے پہلے ہی ملاقات میں پہلوان کہہ کر مخاطب ہوۓ پدرانہ شفقت واپنا پن تھابہت اچھا لگا بہادر وزندہ دل انسان تھے، منصور چار بھائی اور تین بہنوں میں سب سے بڑے تھے سیاست اور سماجی کام ان کو ورثہ میں ملا تھا کانگریس کے سرگرم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا، میر محمد عمر کی قربت کی بنا محمڈن اسپوٹنگ کلب کے عہدے پہ بھی فائز ہوۓ ، وزیر جاوید احمد خان صاحب کی صدارت والی کلکتہ خلافت کمیٹی کے نائب صدر اور زکریہ اسٹریٹ عید بازار کمیٹی کے صدر کے عہدے پہ تا حیات فائلز رہے ملی و سیاسی سرگرمیوں کے بنا مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے گورننگ باڈی کے رکن بھی بناۓ گۓ اردو زبان کے سچے خادم تھے میری دعوت پہ 1990 میں قومی تنظیم و اردو کےایک جلسے میں کانکی نارہ تشریف لائے تھےتب ھم دونوں قومی تنظیم کے صوبائی کمیٹی میں عہدہ دار بھی تھے منصور بھائی کلکتہ کے مسلم انسٹیٹیوٹ ، یتیم خانہ اور اسلامیہ اسپتال کے بھی سرگرم رکن رہے، مرحوم سلطان احمد صاحب نے بارک سرکس میدان میں اردو کا ایک بڑا جلسہ جب منعقد کیا تھا قومی تنظیم کے بینر تلے جس میں اجیت کمار پانجہ سابق مرکری وزیر اور فلم اسٹار سنجے خان کو پانچ ستارہ ہوٹل سے جلسہ گاہ تک لانے کی ذمہ داری خاکسار خواجہ احمد حسین اور بھائی منصور حسن کو سونپی تھی تھی ۔۔۔مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا ۔۔۔ 1989 میں جب میں ایم جے اکبر کے پارلیمنٹ انتخاب میں بحیثیت مقرر کشن گنج گیا تھا تو منصور بھائی کے کئی دوست وہاں ملے پتہ چلا کہ منصور بھائی ،، بلال بھائی ، مصوراور شاھد سب بھائی کشن گنج انسان اسکول کے طالب علم رہے ،منصور بھائی کا رکھ رکھاؤ بہت اعلی تھا بہت سلجھے نیک صفت اور مخلص انسان تھے بھائی منصور حسن اردو اکاڈمی کے تقریباً ہرتقریب میں علالت کے باوجود پابندی سے شرکت کرتےسوچا تھا کہ اکاڈمی کے 6 جنوری کی افتتاحی تقریب میں بھی ملاقات ہوگی ملاقات تو ہوئی پر گوبرا قبرستان میں "جہاں ھم بھی چپ تھے وہ بھی چپ تھے" اظہار تشکر ادا کرنے والے منصور بھائی کو" بھول جانا محال ہے" موت ایک حقیقت ہے ھم سب بھی ایک دن مٹی کی خوراک ہوجاتیں گے اس لیۓ حیات میں ہی کچھ ایسا نقش چھوڑ جائیں تاکہ دنیا میں لوگ نیک نامی سے یاد کریں جیسا ھم منصور کو یاد کر رہے ہیں ،دعا ہے کہ رب العالمین سے کہ دوست منصور حسن کی مغفرت فرمائے اور ان کے لحد کو کشادہ اور جنت کے باغ کی شکل میں تبدیل کر دے۔۔آمین اپنے مرحوم بھائی خواجہ جاوید اختر کے شعر پہ خراج عقیدت تمام کہ۔۔۔۔۔ بھروسا بہت ہے ہمیں زندگی پر۔ مگر زندگی کا بھروسہ نہیں ہے (خواجہ احمد حسین)

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments