غزہ میں حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے بعد سامنے آنے والے مجوزہ معاہدے نے اسرائیل میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ معاہدے میں اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور اقتدار مرحلہ وار ایک فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے ’بہت خوش‘ ہے تاہم اسرائیلی حکومت نے تاحال باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ حماس کے ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ ہونے سے قبل اسرائیلی فوج اپنی موجودہ پوزیشنز سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں کئی سیاست دان اور عوامی حلقے غزہ سے انخلاء کے سخت مخالف ہیں، اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد اسرائیلی معاشرے میں سخت گیر مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے جبکہ مختلف سرویز کے مطابق بڑی تعداد میں اسرائیلی غزہ کے فلسطینیوں کے انخلاء کی حمایت کرتی ہے۔ انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے معاہدے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں اور غزہ سے فلسطینیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ نے بھی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی تو جنگ کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ماہرین کے تجزیے کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو آئندہ انتخابات سے قبل مشکل سیاسی صورتِ حال سے دوچار ہیں، ان کے لیے ایک طرف اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ناراض نہیں کرنا ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو علامتی طور پر فوجی نقل و حرکت دکھا سکتے ہیں لیکن مکمل انخلاء کا امکان انتہائی کم ہے کیونکہ یہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی، نظریاتی مؤقف اور انتخابی مفادات کے خلاف سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادھر امریکی حکام نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے پر عمل درآمد نہ کرے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی امور کے ماہرین کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں بھی ایسے دباؤ کو سیاسی طور پر سنبھالتے رہے ہیں تاہم موجودہ حالات میں ان کے لیے غزہ سے مکمل انخلاء پر آمادہ ہونا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے بلکہ امکان یہی ہے کہ انتخابات سے قبل وہ مزید سخت مؤقف اختیار کریں۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
10 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments