سری نگر: سابق مرکزی وزیر منی شنکر ائیر نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ عالمی نظام میں آنے والی "غیر معمولی تبدیلی" کے دوران بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، اور الزام لگایا کہ ملک کی خارجہ پالیسی بے سمت نظر آتی ہے اور اس میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما نے کہا کہ بھارت اس غیر معمولی تبدیلی کا حصہ بننے کے بجائے "پیچھے چھوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے"۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سرینگر میں پانچویں 'ہلہ بول' کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے ائیر نے کہاکہ "دوسری جنگِ عظیم کے 80 سال بعد، اقوام متحدہ کے ذریعے قائم کیا گیا پورا بین الاقوامی نظام اب ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہاکہ "کوئی ہم سے نہیں پوچھ رہا۔ ہم کسی کی میز پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس دنیا میں میری گزری 85 سالہ زندگی میں بھارت کبھی اتنا تنہا ہوا ہو جتنا آج ہے۔" ائیر کا کہنا تھا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ماضی میں اخلاقیات پر مبنی ہوا کرتی تھی، لیکن موجودہ بی جے پی حکومت "الجھن کی شکار" ہے۔
جواہر لعل نہرو کے بھارت اور پچھلے 12 سالوں کے بھارت کے درمیان فرق بتاتے ہوئے ائیر نے کہاکہ "موجودہ حکومت ہندوتوا کی بنیاد پر یکسانیت لانا چاہتی ہے۔" ان کا کہنا تھا: "یہ حکومت کہتی ہے کہ اس ملک میں ہر کوئی ہندو ہے؛ یعنی آپ مسلم-ہندو ہیں، عیسائی-ہندو ہیں، سکھ-ہندو ہیں، یا یہودی-ہندو ہیں۔ اس لیے وہ اپنے ذہنوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ وہ کیسا ہندوستان چاہتے ہیں، جبکہ ہمارے ذہن بالکل واضح تھے کہ ہمیں کیسا ہندوستان بنانا چاہیے۔"
کانگریس رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ ملک "مکمل طور پر تنہا" ہو چکا ہے کیونکہ "اب کوئی اخلاقیات باقی نہیں رہیں"، اور اب صرف لین دین کی بنیاد پر معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ ائیر نے کہاکہ "(وزیر اعظم) نریندر مودی کو لگتا ہے کہ (امریکی صدر) ڈونلڈ ٹرمپ انہیں جتنی زیادہ بار گلے لگائیں گے، بھارت کی طاقت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ بھارت) ہی ایک نمایاں ملک بننے کا واحد راستہ ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کو اس بات کا کوئی ادراک نہیں کہ "اگر آپ ایک اچھے ملک ہیں، تو دوسرے خود آپ کی پیروی کریں گے"۔
انہوں نے کہاکہ "اگر آپ محض ایک طاقتور ملک بننے کی کوشش کریں گے، تو جیسے چین امریکہ کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، ویسے ہی آپ کو بھی باہر نکال دیا جائے گا۔ اور آپ کو بے دخل کرنے کے لیے ہمارے ارد گرد ہی کئی ممالک موجود ہیں، جن میں پاکستان سے لے کر چین اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش بھی شامل ہے، جو یہ نہیں چاہتے کہ آپ جنوبی ایشیا میں بالا دست قوت بنیں۔" انہوں نے مزید کہاکہ "میرے خیال میں یہ بھارتی خارجہ پالیسی کا موجودہ چیلنج ہے، اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس پر توجہ تک نہیں دی جا رہی۔"
سری نگر: سابق مرکزی وزیر منی شنکر ائیر نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ عالمی نظام میں آنے والی "غیر معمولی تبدیلی" کے دوران بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، اور الزام لگایا کہ ملک کی خارجہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments