خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، کیوں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں اور خلیج میں جہازوں پر ایرانی حملوں نے تیل کی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ اس سے قبل سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن بھی بند ہو چکی تھی۔
روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.21 ڈالر، یا 3.1 فیصد اضافے کے ساتھ 107.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
سعودی حکام نے سعودی عرب کی مشرق۔مغرب تیل پائپ لائن کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر اپنی برآمدات کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے، اور اس کی بندش سے عالمی تیل کی رسد کے چار فیصد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی سرکاری میڈیا نے اتوار کو مکانات اور ایک مسجد کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو جاری کی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ملک کے جنوبی صوبے جازان پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں ہوا۔ حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے پڑوسی صوبے میں ایک سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ادھر، برطانوی بحری سلامتی کی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو ایک میزائل نے نشانہ بنایا، جس سے آگ لگ گئی اور عملے کو جہاز سے نکالنا پڑا۔
ایران نے کہا کہ اس کے ساحل کے قریب نشانہ بنائے گئے ایک ایرانی تجارتی جہاز میں ایک شخص ہلاک اور عملے کے چار ارکان زخمی ہو گئے۔
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی جمعے کے روز سٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرہ پیریم تک پہنچ گئے، یوں باب المندب آبنائے پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہوا۔ یہ تیل کی ترسیل کے لیے ایک اور اہم گزر گاہ ہے جس کے ذریعے حالیہ مہینوں میں عالمی تیل کی رسد کا چار سے پانچ فیصد حصہ منتقل کیا جا رہا تھا۔
گذشتہ ہفتے ان رکاوٹوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور قیمتیں جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، کیوں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں اور خلیج میں جہازوں پر ایرانی حملوں نے تیل کی رسد ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments