Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

مکہ میں پہلی اور دوسری صدی کے چٹانی نقوش اور قدیم کنوؤں کے آثار دریافت

Admin
By Admin
Sep 14, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

مکہ میں پہلی اور دوسری صدی کے چٹانی نقوش اور قدیم کنوؤں کے آثار دریافت
مکہ میں پہلی اور دوسری صدی کے چٹانی نقوش اور قدیم کنوؤں کے آثار دریافت — September 14, 2026
مکہ مکرمہ کے شمال مشرقی جانب واقع وادی العسیلہ اسلامی عہد کے آثارِ قدیمہ سے مالا مال ہے۔ یہاں 60 سے زائد نقوش موجود ہیں جبکہ چار قدیم و تاریخی کنوؤں میں سے دو بھی اسی وادی میں واقع ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق وادی میں پائے جانے والے آثارِ قدیمہ اس علاقے میں انسانی تہذیب کے ارتقا اور عربی رسم الخط کی ترقی کے گواہ ہیں۔ یہاں موجود آثارِ قدیمہ عہدِ رفتہ میں حجاج کے قافلوں کی آمد و رفت کے بھی امین ہیں۔
یہ وادی، جعرانہ کے علاقے میں مکہ مکرمہ کی حدود کے قریب، الشرائع علاقے کے شمال مغربی سمیت اور ریع النقراء سے ریع ام السلم علاقے کے ساتھ ہی واقع ہے۔
وادی کی لمبائی چھ کلو میٹر ہے جبکہ اس کی چوڑائی دو کلو میٹر کے قریب ہے۔ علاقے کا نام ماضی میں ’العسیلہ‘ بنی عبداللہ بن خالد بن اسید سے منسوب ہوا جو خلیفہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے عہد خلافت میں مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔
یہاں پائے جانے والے چٹانی نقوش تین بڑے پہاڑوں پر موجود ہیں جن میں ’الوجرہ الکبیر، الوجرہ الصغیر اور جبل ابوسرۃ‘ ہیں، نقوش پہلی اور دوسری صدی ہجری کے پیں۔
پہاڑی چٹانوں پر پائے جانے والے نقوش میں ’صفیہ بنت شیبہ بن عثمان، محمد بن عبدالرحمن بن ھاشم‘ کے نام نمایاں ہیں جو پہلی صدی ہجری میں نقش کیے گئے ہوں گے۔
وادی العسیلہ ماضی میں حجاج اور تجارتی قافلوں کی گزرگاہ رہا ہے جو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے تاریخی راستوں میں شامل ہے، خاص طور پر عراق سے آنے والے قافلے یہاں سے گزرا کرتے تھے۔
تاریخ میں وادی ہمیشہ سے اہمیت کی حامل رہی ہے، یہاں مختلف ادوار میں مسلم حکمرانوں نے خاص توجہ دی، حجاج کے قافلوں کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں پانی کی مستقل فراہمی پر خاص توجہ دی گئی۔
اس کے لیے مختلف مقامات پر کنویں کھودے گئے، جن میں سے بعض کے آثار آج بھی موجود ہیں۔
وادی میں چار تاریخی کنویں تھے جن میں سے دو اب بھی موجود ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے عباسی دور حکومت میں حجاج کے کاروانوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر کنویں کھودے گئے تھے۔

مکہ مکرمہ کے شمال مشرقی جانب واقع وادی العسیلہ اسلامی عہد کے آثارِ قدیمہ سے مالا مال ہے۔ یہاں 60 سے زائد نقوش موجود ہیں جبکہ چار قدیم و تاریخی کنوؤں میں سے دو بھی اسی وادی میں واقع...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn