Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

دہلی میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں ہندو رکشا دل کے 4 ارکان گرفتار

Admin
By Admin
Oct 12, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

دہلی میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں ہندو رکشا دل کے 4 ارکان گرفتار
دہلی میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں ہندو رکشا دل کے 4 ارکان گرفتار — October 12, 2026
نئی دہلی، 11 اکتوبر:) قومی راجدھانی دہلی میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں ہندو رکشا دل کے 4 ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں زعفرانی لباس پہنے افراد ہفتے کے روز چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین کو دھمکاتے اور ان پر حملہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔
تنظیم کے سربراہ پنکی چودھری نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی، ملزمان کو اپنی تنظیم کے کارکنان قرار دیا اور ان لوگوں کو خبردار کیا جنہوں نے مبینہ طور پر سناتن دھرم کو نشانہ بنایا تھا۔
ویڈیو میں مختلف مقامات پر مظاہرین کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے مردوں کے گروہ دکھائی دیے ۔ بعض واقعات بظاہر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں پیش آئے ۔
دہلی پولیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز دین دیال اپادھیائے مارگ پر ہوئے حملے کے سلسلے میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ یہ واقعہ کملا مارکیٹ پولیس تھانے کے دائرئہ اختیار میں پیش آیا۔ پولیس نے ملزمان کی شناخت رمن سینی (50)، وویکانند (32)، کپل کمار (27) اور رویندر سنگھ کے طور پر کی ہے ۔ یہ سب دہلی اور قومی راجدھانی خطے کے رہنے والے ہیں اور چودھری کے ہندو رکشا دل سے وابستہ ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
پولیس کے مطابق، ان گرفتاریوں سے پہلے انٹرنیٹ پر پھیلائی جا رہی ویڈیوز کی جانچ کی گئی اور مبینہ طور پر واقعے میں شامل افراد کی شناخت اور ان کے ٹھکانے کا پتا لگانے کے لیے پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہاکہ ''سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ، جس میں مبینہ طور پر 4 افراد ایک مرد مظاہرین پر حملہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، دہلی پولیس کے کملا مارکیٹ تھانے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی۔''
اس دوران چودھری نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں ان افراد کو اپنی تنظیم کا رکن قرار دیا۔ انہوں نے لکھاکہ ''یہ ہندو رکشا دل کے میرے کارکن ہیں، ایک ایسی تنظیم جو اپنے وعدے پورے کرتی ہے ۔'' انہوں نے مظاہرین کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی اور کہا کہ ان کی تنظیم اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے ان افراد کو سناتن دھرم کے ''جنگجو'' قرار دیا اور خبردار کیا کہ جو کوئی بھی اس مذہب کو نشانہ بنائے گا، اسے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی تنظیم کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے ، لیکن وہ ان لوگوں کو جواب دے گی جو اس کی مذہبی شناخت پر حملہ کر رہے ہیں۔
یہ پوسٹیں چودھری کی اس اپیل کے بعد سامنے آئیں، جس میں انہوں نے اپنے حامیوں سے لاٹھیاں لے کر جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ یہ اپیل کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے انتخابی کمیشن کے کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مسٹر کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلائے گئے احتجاج سے پہلے کی گئی تھی۔
سی جے پی کے ایک ترجمان نے کہاکہ ''پُرامن مظاہرین پر حملہ جمہوری حقوق پر حملہ ہے اور پولیس کو اس میں شامل تمام افراد کی جواب دہی یقینی بنانی چاہیے ۔''
اطلاعات کے مطابق، چودھری کو غازی آباد میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم، انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں خود کو دائیں بازو کی نظریاتی تنظیموں سے وابستہ بتانے والے گروہ وسطی دہلی سے گزرتے ہوئے مظاہرین کا سامنا کرتے اور پولیس و انتظامیہ کی حمایت میں نعرے لگاتے دکھائی دیے ۔
ایک ویڈیو میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیاکہ ''دہلی پولیس، تم لاٹھیاں چلا¶، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔'' دوسری ویڈیو میں لوگ مظاہرین کا پیچھا کرتے ، انہیں گالیاں دیتے ، ایک مرد مظاہرین پر حملہ کرتے اور ایک خاتون کے ساتھ بدسلوکی کرتے دکھائی دیے ۔ مختلف واقعات کے حالات اور ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام افراد کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔

نئی دہلی، 11 اکتوبر:) قومی راجدھانی دہلی میں مظاہرین پر حملے کے الزام میں ہندو رکشا دل کے 4 ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو میں زعفرانی لباس پہنے افراد ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn