ملک کے کئی حصوں میں اس سال مانسون کی سست رفتاری نے کسانوں اور دیہی آبادی کی تشویش بڑھا دی ہے۔ 18 اگست تک ملک میں بارش کی کمی 13 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ بہار، آسام، مشرقی اترپردیش اور ودربھ جیسے غریب علاقوں میں یہ کمی 20 سے 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے وقت میں جب زراعت کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، دیہی معیشت کے لیے زندگی کی امید سمجھے جانے والے روزگار گارنٹی پروگرام کے اعداد و شمار کافی تشویش ناک ہیں۔
دسمبر 2025 میں منظور کیے گئے نئے قانون ’وکست بھارت-روزگار و اجیونیکا مشن (دیہی)‘ یعنی VB-GRAM G کے نفاذ کے ساتھ پرانا منریگا (MGNREGA) قانون ختم ہوگیا ہے۔ یکم جولائی سے مکمل طور پر نافذ ہونے والے اس نئے قانون میں فنڈنگ کے حوالے سے بڑا تبدیلی کی گئی ہے۔ اب مرکزی حکومت کے ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی اسکیم کے 40 فیصد اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے۔اگرچہ ریاستوں نے اپنے بجٹ میں اس کے لیے مالی انتظامات کیے ہیں، لیکن زمینی سطح پر روزگار فراہم کرنے کی رفتار مسلسل سست ہوتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں کیے گئے ایک تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت ملنے والے کام میں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل کمی آئی ہے۔ تجزیے کے مطابق 2021-22 میں جہاں 3,630 ملین پرسن ڈیز کا روزگار فراہم کیا گیا تھا، وہیں 2025-26 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 2,280 ملین پرسن ڈیز رہ گئی۔ اسی دوران فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی تعداد بھی 72.5 ملین سے گھٹ کر 53.4 ملین رہ گئی۔ نئے قانون کے نفاذ کے پہلے مہینے یعنی جولائی 2026 میں صرف 76.7 ملین پرسن ڈیز کا روزگار پیدا ہوا، جبکہ جولائی 2020 میں یہ تعداد 391 ملین تھی۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش، بہار اور آسام جیسی خشک سالی سے متاثرہ ریاستوں میں بھی جولائی کے دوران کام کی مانگ اور روزگار کی فراہمی میں زبردست کمی دیکھی گئی۔
دیہی علاقوں میں اس وقت مزدوری کی شرح تقریباً مستحکم ہے اور زراعت پر خشک سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسے میں روزگار گارنٹی اسکیم کا کمزور ہونا ملک کی دیہی معیشت کے لیے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ یہ اسکیم صرف دیہی مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے دیہی بازار میں طلب بھی پیدا ہوتی ہے، جس سے مقامی معیشت کو رفتار ملتی ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ روزگار گارنٹی کے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط بنائے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments