ای ڈی کی یہ کارروائی سندر شام اروڑہ پر لگے 5 کروڑ روپے کی رشوت کے الزامات سے متعلق معاملے میں کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ موہالی میں 25 ایکڑ زمین کے سودے اور اس کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کے بدلے رشوت لی گئی تھی۔سندر شام اروڑہ کو پہلے 15 اکتوبر 2022 کو پنجاب ویجیلنس بیورو نے 50 لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے خلاف تحقیقات ختم کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی۔اس معاملے کی تحقیقات میں 30 ایکڑ اراضی، ہسپتال میں 50 فیصد حصص اور لگژری گاڑیوں سے متعلق تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ ای ڈی اب ان معاملات سے متعلق مالیاتی لین دین اور جائیدادوں کی جانچ کر رہا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، گلموہَر ٹاؤن شپ نے زمین کا معاہدہ ہونے سے پہلے ہی 27.5 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی تھی۔ اس زمین کے لیے این او سی 17 نومبر 2020 کو جاری کیا گیا تھا۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سابق وزیر سندر شام اروڑہ کے بیٹے پرتیک اروڑہ کی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی میں 35 فیصد حصہ داری ہے۔ اسی معاملے سے جڑے مختلف پہلوؤں کی جانچ کے لیے ای ڈی کی ٹیم متعدد مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔
نئی دہلی :پنجاب میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پیر کے روز بڑی کارروائی کرتے ہوئے سابق کابینی وزیر اور کانگریس لیڈر سندر شام اروڑہ سے وابستہ 16 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ ای ڈی...