نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی مخالفت جاری ہے۔ منگل کی صبح تقریباً 9 بجے سی جے پی کے رہنما آشوتوش رانکا اور سورَو داس اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔آشوتوش رانکا اور سی جے پی کی جانب سے اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے۔ ویڈیو میں رانکا اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مظاہرین گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔ اسی دوران پولیس اہلکار انہیں پکڑ کر لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
سورَو داس نے کیا کہا؟
سی جے پی رہنما سورَو داس نے کہا کہ وہ جنتر منتر میں داخل ہو چکے ہیں اور اب انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔سی جے پی کے رہنما ایسے وقت میں جنتر منتر پہنچے ہیں، جب حکومت نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ اس فیصلے پر پارٹی نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے پر سی جے پی ناراض
سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا خوف اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو لگتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام نہ رہنے دینے سے مظاہرے بند ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔ابھجیت دیپکے نے آشوتوش رانکا کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ جنتر منتر پر ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا، ’’جنتر منتر پر ترنگا لہراتے آشوتوش رانکا۔‘‘ انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ سلامی دینے والا ایموجی بھی شیئر کیا۔
۔آشوتوش رانکا اور سی جے پی کی جانب سے اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے۔ ویڈیو میں رانکا اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مظاہرین گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔ اسی دوران پولیس اہلکار انہیں پکڑ کر لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
سی جے پی رہنما سورَو داس نے کہا کہ وہ جنتر منتر میں داخل ہو چکے ہیں اور اب انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔سی جے پی کے رہنما ایسے وقت میں جنتر منتر پہنچے ہیں، جب حکومت نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ اس فیصلے پر پارٹی نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
سی جے پی کے لیڈر ابھجیت دیپکے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا خوف اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت کو لگتا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام نہ رہنے دینے سے مظاہرے بند ہو جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔ابھجیت دیپکے نے آشوتوش رانکا کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ جنتر منتر پر ترنگا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا، ’’جنتر منتر پر ترنگا لہراتے آشوتوش رانکا۔‘‘ انہوں نے اس پوسٹ کے ساتھ سلامی دینے والا ایموجی بھی شیئر کیا۔
جنتر منتر سے سی جے پی (CJP) کے لیڈران کو حراست میں لیے جانے کے بعد تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ترنگا لہرانا کب سے خلاف ورزی ہو گیا؟
دیپکے نے بتایا کہ ان کی ٹیم کی قیادت آشوتوش رانکا، سورو داس اور اجنکیا شندے کر رہے تھے۔ منگل کی صبح ان کی ٹیم جنتر منتر پہنچی، جہاں انہوں نے ترنگا لہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’ترنگا لہرانا کب سے خلاف ورزی ہو گیا؟ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ جنتر منتر پر ترنگا لہرانا خلاف ورزی ہے، وہ ملک کا غدار ہے۔‘‘ انہوں نے آشوتوش رانکا، سورو داس اور اجنکیا شندے کو حراست میں لیے جانے کے معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور وہ وہاں اس وقت تک ترنگا لہراتے رہیں گے، جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دے دیتے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر سے کئی مظاہرین کو حراست میں لیا ہے، جن میں سی جے پی کے لیڈر آشوتوش رانکا اور سورو داس بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، پولیس ذرائع کے مطابق، 12 اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرے کے سلسلے میں مجموعی طور پر چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ یہ ایف آئی آر بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی اور دیگر دفعات کے تحت درج کی گئی ہیں۔
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی مخالفت جاری ہے۔ منگل کی صبح تقریباً 9 بجے سی جے پی کے رہنما آشوتوش رانکا اور سورَو داس اپن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments