ایودھیا کے رام مندر میں چندہ چوری اور جنتر منتر پر جمع مظاہرین طلبا پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آواز اٹھائی ہے۔ انھوں نے پیر کے روز مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب (پارلیمنٹ میں) بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن وہ مانتے ہی نہیں۔‘‘ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے بھی رام مندر چندہ چوری اور نیٹ-یوجی امتحان کے سوالنامے لیک ہونے جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم سب بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں کئی مسائل اور بڑے مسائل ہیں۔ اس کے باوجود آپ اس پر بحث کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بجائے آپ طلبا پر آنسو گیس کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی پٹائی کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ وہ ہمارے بچے ہیں۔‘‘ انھوں نے حکومت اور انتظامیہ کے اس رویہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ دوسری طرف ششی تھرور نے ایک پرانی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہیے، کیونکہ حکومت اپنی منمانی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں اراکین پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھا سکیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ ہزاروں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مظاہرین نے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب سیکورٹی اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا، تو تھرور نے کہا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کس جذبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جب ایک پرامن احتجاج ہو رہا ہے تو لاٹھی چارج کی کیا وجہ ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لاٹھی چارج عدم تشدد کا عمل نہیں ہے۔ یہ تشدد کا عمل ہے۔ مجھے اس کی منطق سمجھ نہیں آتی۔‘‘ تھرور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ’ایودھیا چندہ چوری‘، نیٹ امتحان پرچہ لیک اور کانگریس کی جانب سے شروع کی گئی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت اہم معاملات اٹھانا چاہتی ہے، لیکن حکومت بحث کے لیے تیار نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ بحث سے کیوں ڈرتے ہیں؟ تھرور نے یہ بھی کہا کہ سب جانتے ہیں یہ پورے ملک میں سلگتے ہوئے مسائل ہیں، اس لیے ان پر بحث کرنا منطقی ہوگا۔ پارلیمنٹ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ہم عوام کی آواز اور عوام کی تشویش کو اٹھا سکتے ہیں اور ایک بار ایسا ہو جانے کے بعد، ہم سب جانتے ہیں کہ حکومت کے پاس اکثریت ہے۔
Source: Admin
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
9 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
9 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
10 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
9 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments