بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں متاثرہ قباِئلی خاندانوں سے ملاقات کے دوران کچھ افراد اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد، کاک روچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی حکومت پر شدید طنز کیا ہے۔ دیپکے نے وزیر اعلیٰ کے نام سے ایک جعلی اور طنزیہ استعفیٰ نامہ تیار کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔
اتوار کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع کیے گئے اس خط میں، جو دیکھنے میں بالکل سرکاری خط جیسا لگتا ہے، دیپکے نے ساگر کے زہریلی شراب کے واقعے اور بالاگھاٹ میں بچوں کی ہلاکتوں جیسے معاملات پر حکومت کی ناکامیوں کو نشانہ بنایا۔
"میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں ریاست کے عوام کی خدمت کا موقع دینے پر وزیر اعظم نریندر مودی جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ایک ایسا موقع جس میں، میں واضح طور پر ناکام رہا ہوں۔" — دیپکے کی جانب سے شیئر کردہ طنزیہ استعفیٰ نامہ
اس پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان اشوتوش رنکا نے بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے "بھاگ رہی ہے"۔
بالاگھاٹ میں کیا ہوا تھا؟
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہفتے کے دن ابھیجیت دیپکے بالاگھاٹ کے آڈوری، کورکا اور بونڈری گاؤں کا دورہ کر رہے تھے۔ وہ ان قباِئلی خاندانوں سے ملنے گئے تھے جن کے بچے وبائی بیماری کی وجہ سے جان بحق ہو گئے تھے، تاکہ وہاں صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے۔
واپسی کے وقت ایک خاتون انفلوئنسر نے ان کی گاڑی کے پاس آ کر مائیک سامنے کیا اور سوال کیا کہ وہ اتنی تاخیر سے کیوں آئے ہیں اور کیا وہ "لاشوں پر سیاست" کرنے آئے ہیں؟ جب صورتحال کشیدہ ہونے لگی تو سی جے پی کے کارکنوں نے دیپکے کو دوسری گاڑی میں منتقل کر کے وہاں سے محفوظ روانہ کیا۔
بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں متاثرہ قباِئلی خاندانوں سے ملاقات کے دوران کچھ افراد اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد، کاک روچ جنتا پار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments