نئی دہلی: الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے بدھ کے روز منقسم فیصلہ سنایا۔ معاملہ چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور الیکشن کمشنروں (ECs) کی تقرری کے لیے بنائے گئے سلیکشن پینل میں چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کی جگہ مرکزی کابینہ کے وزیر کو شامل کرنے سے متعلق ہے۔
اس معاملے کی سماعت کرنے والی دو ججوں کی بنچ میں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما شامل تھے۔ سوال یہ تھا کہ 2023 کے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو 5 ججوں کی بڑی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے یا نہیں۔
جسٹس دیپانکر دتہ نے معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی درخواست کو مسترد کر دیا، جبکہ جسٹس ستیش چندر شرما نے اسے 5 ججوں کی بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی اجازت دے دی۔ دونوں ججوں کی رائے الگ ہونے کی وجہ سے معاملے میں منقسم فیصلہ سامنے آیا۔ اس کے بعد عرضیوں کو 5 ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے بھیج دیا گیا ہے۔
یہ تنازع چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، سروس کی شرائط اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023 سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت الیکشن کمشنروں کی تقرری کرنے والی سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کی جانب سے نامزد مرکزی کابینہ کے وزیر شامل ہیں۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے 2023 کے انوپ برنوال فیصلے میں عبوری انتظام کے طور پر وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا پر مشتمل کمیٹی کی شق رکھی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس دیپانکر دتہ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ آئینی معاملات کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مستقل 5 ججوں کی آئینی بنچ تشکیل دینے پر غور کرنا چاہیے۔ اس تبصرے کا حوالہ بھی آج کے فیصلے میں سامنے آیا۔ اب 5 ججوں کی بڑی بنچ ان عرضیوں پر مزید سماعت کرے گی اور 2023 کے قانون کی آئینی حیثیت سے متعلق سوالات پر غور کرے گی۔
نئی دہلی: الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے بدھ کے روز منقسم فیصلہ سنایا۔ معاملہ چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور الیکشن کمشنروں (...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments