امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے ملاقات کی۔ جنوری میں امریکی افواج کے ہاتھوں اس وقت کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کی اولین ملاقات تھی۔
ٹرمپ کی میزبانی میں منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب کے دوران یہ مختصر اور نجی نوعیت کی ملاقات اس وقت ہوئی جب روڈریگز نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار امریکہ کا دورہ کیا۔ وہ بدھ کی سہ پہر جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہی ہیں۔
وفد کے قریبی دو افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ وینزویلا کا وفد ملک کو "سرمایہ کاری کے لیے موزوں" ظاہر کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وفد میں معیشت کے نائب صدر، وزیرِ تیل اور سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے حکام شامل ہیں۔
روڈریگز نے اس ملاقات کو توانائی، کان کنی اور سکیورٹی کے شعبوں میں امریکہ سے روابط مستحکم کرنے کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔
مذاکرات کے بعد میسجنگ ایپ 'ٹیلی گرام' پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا، "وینزویلا اور امریکہ کے درمیان تاریخی روابط ہیں اور اس نئے مرحلے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مکالمے کے ذریعے انہیں آگے بڑھائیں۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایسی سفارت کاری کو آگے بڑھائے گی جس کا مقصد وینزویلا کے عوام کے لیے "ٹھوس نتائج اور اجتماعی فوائد" کا حصول ہو۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ روڈریگز سے ملاقات میں صدر ٹرمپ کے علاوہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز اور صدر کے معاون و پالیسی امور کے ڈپٹی چیف آف سٹاف سٹیفن ملر بھی شامل تھے۔
ٹرمپ نے روڈریگز سے ایک مؤثر پیشہ ورانہ تعلق قائم کر لیا ہے جو قبل ازیں مادورو کی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ واشنگٹن نے ماریا کورینا ماچاڈو کی زیرِ قیادت اپوزیشن کو ایک طرف کر دیا ہے اور عبوری حکومت کے ساتھ تیل اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کی خاطر آزادانہ انتخابات کے مطالبات ترک کر دیے ہیں۔
ٹرمپ اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے۔
ذرائع کے مطابق روڈریگز پیر کو وفد کے ہمراہ نیویارک پہنچی تھیں جو امریکی حکام، کثیر القومی قرض دہندگان اور کمپنیوں کے ساتھ توانائی، کان کنی اور قرضوں کے معاملات پر مذاکرات کر رہا ہے۔
انٹر امریکن ڈیولپمنٹ بینک کے سربراہ وینزویلا کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاہم انہیں بینک بورڈ کے بعض ارکان کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔
منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر 50 سے زائد مظاہرین جمع ہو گئے جنہوں نے وینزویلا کے پرچم اور ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "ووٹ نہیں تو تیل نہیں" اور "نیا چہرہ، وہی نظام" جیسے نعرے درج تھے۔ انہوں نے وہاں ڈیلسی روڈریگز کی موجودگی کے خلاف احتجاج کیا۔
ان میں سے کئی مظاہرین نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ٹرمپ ان کے ملک میں شفاف انتخابات منعقد کروانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے ملاقات کی۔ جنوری میں امریکی افواج کے ہاتھوں اس وقت کے صد...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments