کولکتہ: این سی پی آئی کے معاملے پر الجھنیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر لوک سبھا تک، ہر جگہ این سی پی آئی زیر بحث ہے۔ این ڈی اے کے دوسرے بڑے حلیف کے طور پر، این سی پی آئی کے صدر جئے پرکاش چٹوپادھیائے نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، وہیں این سی پی آئی بھی انتخابی مہم میں حصہ لے گی۔ لیکن دوسری طرف، بی جے پی کے ریاستی صدر نے اس جماعت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نندی گرام اور رضی نگر میں ضمنی انتخابات قریب ہیں۔ ایسے میں این سی پی آئی نے میدان میں اتر کر مہم چلانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ پارٹی صدر نے شوبھندو ادھیکاری کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہوئے بی جے پی کے پروگراموں میں شامل ہونے کی بات کہی ہے۔ لیکن شمیک بھٹاچاریہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ان کی پارٹی سے کسی نے انہیں مہم میں نہیں بلایا۔
بدھ کے روز دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب شمیک بھٹاچاریہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ "این سی پی آئی میرے سلیبس (دائرہ کار) میں شامل نہیں ہے۔" جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ جماعت تو مہم چلانے کی بات کہہ رہی ہے، تو شمیک نے جواب دیاکہ "اگر کوئی مہم چلانا چاہتا ہے تو جائے، اگر وہ این ڈی اے کے حلیف کے طور پر مہم چلانا چاہتے ہیں تو چلائیں۔ البتہ جہاں تک میں جانتا ہوں، انہیں کسی نے مہم کے لیے نہیں بلایا۔"
بنگال کے اسمبلی انتخابات ختم ہونے کے بعد، نامعلوم یا کم جانی پہچانی جانے والی تنظیم 'این سی پی آئی' میں بیس ارکانِ پارلیمنٹ نے شمولیت اختیار کی تھی، لیکن اس کے باوجود پیچیدگیاں اب بھی برقرار ہیں۔ پارلیمنٹ میں آج بھی ان بیس ارکان کی شناخت 'آل انڈیا ترنمول کانگریس' کے اراکین کے طور پر ہی درج ہے۔ ان کی رکنیت کیوں منسوخ نہ کی جائے، اس پر اپنی وضاحت پیش کرنے کے لیے یہ اراکین ہفتوں کا وقت مانگ رہے ہیں۔ دوسری جانب، سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے گی۔
کولکتہ: این سی پی آئی کے معاملے پر الجھنیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر لوک سبھا تک، ہر جگہ این سی پی آئی زیر بحث ہے۔ این ڈی اے کے دوسرے بڑے حلیف کے طور پر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments