Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

بی این پی کے امیدوار مرزا فخر الاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب

بی این پی کے امیدوار مرزا فخر الاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب

ڈھاکہ، 20 اگست : بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے نامزد امیدوار مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے حزب اختلاف کے امیدوار ریٹائرڈ کرنل اولی احمد کو شکست دے کر بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب ہوگئے ۔ یہ ملک میں 35 سال بعد ہونے والا پہلا متنازع صدارتی انتخاب تھا۔
فخر الاسلام عالمگیر نے زبردست اکثریت حاصل کرتے ہوئے 255 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار اولی احمد کو صرف 88 ووٹ ملے ۔چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین، جو ریٹرننگ افسر بھی تھے ، نے جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے جاتیہ سنگسد بھبن میں ووٹنگ ختم ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کیا۔ڈیلی سن کے مطابق الیکشن کمیشن جمعرات کو ہی سرکاری گزٹ میں نتائج شائع کرنے کی توقع ہے ۔ووٹنگ دوپہر 2 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے تین گھنٹے تک جاری رہی۔
قائم مقام صدر حافظ الدین احمد اور قائم مقام اسپیکر قیصر کمال نے 2 بج کر 10 منٹ پر ووٹ ڈالے ، جس کے بعد وزیر اعظم طارق رحمان اور فخر الاسلام نے 2 بج کر 11 منٹ پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ووٹنگ سے قبل چیف الیکشن کمشنر ناصر الدین نے ارکان پارلیمنٹ کو انتخابی طریقہ¿ کار سے آگاہ کیا۔انتخاب کھلی رائے شماری کے ذریعے ہوا، جس میں 349 ارکان پارلیمنٹ ووٹ ڈالنے کے اہل تھے ۔
فخر الاسلام کی کامیابی پہلے ہی متوقع تھی کیونکہ پارلیمنٹ میں بی این پی کو واضح اکثریت حاصل ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 70 کے تحت ارکان پارلیمنٹ کو اپنی جماعت کے فیصلے کے خلاف ووٹ دینے پر اپنی نشست سے محروم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔
349 اہل ووٹرز میں 247 بی این پی ارکان، 77 جماعت ارکان، نیشنل سٹیزن پارٹی کے 8 ارکان، 8 آزاد ارکان، بنگلہ دیش خلافت مجلس کے 3 ارکان اور بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی (بی جے پی)، گونو ادھیکار پریشد، گونوسامہتی آندولن، خلافت مجلس، اسلامی آندولن بنگلہ دیش اور جاتیہ گناتانترک پارٹی کا ایک ایک رکن شامل تھا۔
حکمران بی این پی کی قیادت میں قائم کیمپ کی جانب سے فخر الاسلام کی حمایت متوقع تھی، جبکہ حزب اختلاف کے اتحاد سے اولی احمد کی حمایت کی توقع کی جا رہی تھی۔یہ صدارتی انتخاب محمد شہاب الدین کے 24 جولائی کو صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد منعقد ہوا، جس کے بعد اسپیکر حافظ الدین احمد نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔آئین کے آرٹیکل 123(2) کے تحت صدر کے استعفے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خالی نشست کو پُر کرنے کے لیے 90 دن کے اندر صدارتی انتخاب کرانا ضروری ہے ۔فخر الاسلام جمعہ کی شام بنگ بھبن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ، جس کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔فخر الاسلام عالمگیر 2016 سے اگست 2026 تک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے ۔ صدارتی امیدوار نامزد ہونے کے بعد انہوں نے پارٹی کے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
وہ اپوزیشن میں بی این پی کے برسوں کے دوران پارٹی کا عملی طور پر سب سے نمایاں چہرہ رہے ، خصوصاً اس عرصے میں جب بی این پی کی چیئرپرسن خالدہ ضیا جیل میں تھیں اور طارق رحمان جلاوطنی میں تھے ۔اس سے قبل آخری مرتبہ صدارتی انتخاب 8 اکتوبر 1991 کو ہوا تھا، جب بی این پی کے امیدوار عبدالرحمان بسواس نے عوامی لیگ کے امیدوار بدرالحیدر چوہدری کو 172 کے مقابلے میں 92 ووٹوں سے شکست دے کر بنگلہ دیش کے 11ویں صدر کا منصب سنبھالا تھا۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

{{ currentVoteCount }} Responses
{{ voteMessage }}
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn