نئی دہلی: کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار کا جمعرات کے روز انتقال ہو گیا ہے۔ تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے سجن کمار کو جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد دہلی کے صفدر جنگ اسپتال لایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ وہ 80 برس کے تھے۔ سجن کمار 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے مقدمات میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
سجن کمار پر 3 کیس: 1 میں بری، 2 میں قصوروار
دہلی کینٹ کی پالم کالونی میں 5 سکھوں کے قتل کے بعد گردوارہ جلا دیا گیا تھا۔ اس کیس میں سجن کمار کو قصوروار پایا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے 17 دسمبر 2018 کو انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ستمبر 2023 کو راؤز ایونیو کورٹ نے انہیں دہلی کے سلطان پوری میں 3 سکھوں کے قتل کے معاملے میں بری کر دیا تھا۔ بعد ازاں، 1 نومبر 1984 کو سرسوتی وہار میں سردار جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے ترندیپ سنگھ کا قتل ہوا تھا، جس میں 12 فروری 2025 کو سجن کمار کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور 25 فروری 2025 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
1984 کے سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے 22 جنوری 2026 کو ایک بڑا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے سابق کانگریس ایم پی سجن کمار کو جنک پوری اور وکاس پوری علاقوں میں ہونے والے تشدد اور فسادات کے ایک کیس میں بری کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا تھا جب سجن کمار پہلے ہی فسادات کے دیگر مقدمات میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
جنک پوری اور وکاس پوری معاملے کا پس منظر 1984 میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے فسادات سے جڑا ہوا ہے۔ 1 نومبر 1984 کو جنک پوری میں دو سکھوں، سوہن سنگھ اور ان کے داماد اوتار سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھا، جسے 'جنک پوری سانحہ' کہا جاتا ہے۔ اسی طرح 2 نومبر 1984 کو 'وکاس پوری سانحہ' میں گورچرن سنگھ نامی شخص کو ہجوم نے آگ کے حوالے کر دیا تھا۔ ان معاملات میں 2015 میں مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) نے نئی ایف آئی آر (FIR) درج کی تھی۔ اگرچہ، 2023 میں عدالت نے سجن کمار کو قتل (302) اور مجرمانہ سازش (120B) کے الزامات سے پہلے ہی ڈسچارج (بری) کر دیا تھا، لیکن فسادات اور ہجوم کو اکسانے کے الزامات پر ٹرائل جاری رہا تھا۔
تازہ ترین فیصلے میں بری ہونے کے باوجود سجن کمار جیل ہی میں تھے۔ اس کی دو اہم وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ یہ کہ دہلی ہائی کورٹ نے دسمبر 2018 میں راج نگر (پالم کالونی) علاقے میں 5 سکھوں کے قتل کے معاملے میں سجن کمار کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی، فروری 2025 میں ایک اور نچلی عدالت نے انہیں سرسوتی وہار کیس (جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے کے قتل) میں بھی قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سجن کمار فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں بند تھے۔
واضح رہے کہ سجن کمار بھارتی سیاست کا ایک سابقہ معروف چہرہ اور کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما رہے ہیں۔ تاہم، ان کی شناخت کا ایک بڑا حصہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق قانونی کارروائیوں اور ان میں ملنے والی سزاؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر سیاسی کیریئر کی بات کریں تو سجن کمار دہلی کی 'بیرونی دہلی' لوک سبھا سیٹ سے تین بار (1980، 1991 اور 2004) کانگریس کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ (ایم پی) منتخب ہوئے تھے۔
سجن کمار نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک کونسلر کے طور پر کیا تھا اور وہ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ دسمبر 2018 میں، جب دہلی ہائی کورٹ نے انہیں فسادات کے ایک کیس میں عمر قید کی سزا سنائی، تب انہوں نے کانگریس پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ تاحیات تہاڑ جیل میں بند رہے اور اپنی عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان کی پیدائش 23 ستمبر 1945 کو ہوئی تھی۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ بیکری کے کاروبار سے وابستہ تھے اور انہیں سنجے گاندھی کا وفادار مانا جاتا تھا۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments