Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

"عالمی سیاست میں نیا موڑ: برازیل سے یورپ تک ٹرمپ کے اتحادیوں کی شکست، اب نظریں اسرائیل پر!"

Admin
By Admin
Oct 27, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

"عالمی سیاست میں نیا موڑ: برازیل سے یورپ تک ٹرمپ کے اتحادیوں کی شکست، اب نظریں اسرائیل پر!"
"عالمی سیاست میں نیا موڑ: برازیل سے یورپ تک ٹرمپ کے اتحادیوں کی شکست، اب نظریں اسرائیل پر!" — October 27, 2026
برازیل نے ٹرمپ کو لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت کی باگ ڈور ان کے قریبی اتحادی کے سپرد کرنے سے روک دیا، جس سے خطے میں قدامت پسندوںکی مسلسل سات کامیابیوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ دوسری طرف یورپ میں، سربیا اور ہنگری کی عوام نے ان رہنماو¿ں کا تختہ الٹ دیا جو ٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے تھے اور جنہوں نے سالہا سال اپنے ممالک پر حکومت کی تھی۔ اب منگل کو ایک اور انتہائی اہم ترین انتخاب سر پر ہے، جہاں ٹرمپ کے اتحادی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑیں گے۔انتخابات سے ایک روز قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کی تائید اور امریکی صدر کے ساتھ اپنی "دوستی" کا ڈھنڈورا پیٹا۔ لیکن جہاں عالمی سطح پر راست بازوں نے کچھ پیش رفت کی ہے، وہیں اپوزیشن طاقتوں نے اس ویک اینڈ پر ثابت کر دیا کہ ان میں ابھی بھی دم خم باقی ہے۔
برازیل میں، بائیں بازو کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا نے سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو کے چیلنج کو ناکام بنا دیا۔ تاہم جونئےربولسونارو، جسے وسیع پیمانے پر اپنے والد کی عوام پسند تحریک کا وارث دیکھا جاتا ہے، اس نے اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور نتائج کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔
سنےئر بولسونارو 2022 کے اپنے انتخاب کی ہار کو بدلنے کے لیے بغاوت کی سازش کے جرم میں 27 سال کی قید کاٹ رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس عدالتی کارروائی کو "سیاسی انتقام" قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاو¿س نے اس انتخابی دوڑ کے بارے میں تبصرے کے لیے درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
برازیل کے انتخابات لاطینی امریکہ میں ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے ایک امتحان کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں دائیں بازو اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے مسلسل کامیابیوں کا جشن منایا تھا۔ان میں کولمبیا میں ٹرمپ کی تائید یافتہ ابیلارڈو ڈی لا اسپریلا، ہونڈوراس میں ناسری "ٹیٹو" اسفورا اور چلی میں جوس انتونیو کاست شامل ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے رسمی طور پر فلاویو بولسونارو کی تائید نہیں کی تھی، لیکن انہوں نے رواں سال کے اوائل میں ان سے ملاقات کی تھی اور بولسونارو کے والد کے خلاف الزامات کے احتجاج میں برازیل پر بھاری ٹیرف عائد کر دیے تھے۔ دوسری طرف، لولا کھلے عام ٹرمپ کے ناقد ہیں۔مارچ میں، کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلاویو بولسونارو نے حاضرین سے کہا تھا کہ امریکہ انتخابات میں "دو راہے" پر کھڑا ہے "یا تو آپ کے پاس اس خطے میں سب سے طاقتور اتحادی ہوگا، یا پھر ایک مخالف۔"
اسی دوران، بحرِ اوقیانوس کے پار، طلباءکی قیادت میں چلنے والی ایک اپوزیشن تحریک نے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے مضبوط رہنما الیگزینڈر ووچک کی دائیں بازو کی پارٹی کا تختہ الٹ دیا، جو وزیراعظم بننے کی کوشش کر رہے تھے۔
بولسونارو خاندان کے برعکس، بلقان کے اس رہنما (ووچک) نے اتوار کے روز اپنی شکست تسلیم کر لی۔ووچک نے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر سمیت ٹرمپ کے اندرونی حلقے سے تعلقات بڑھائے تھے اور صدر کو "ہم خیال شخص" قرار دیا تھا۔
یہ تبدیل ہوتی ہواو¿ں کی عکاسی کرتا ہے جس کی بدولت پڑوسی ملک ہنگری میں بھی 16 سال سے اقتدار پر قابض اور ٹرمپ کے اتحادی ویکٹر اوربان کو اپریل میں اقتدار سے باہر کر دیا گیا تھا۔
یورپ کی سیاسی ہلچل دونوں سمتوں میں جا رہی ہے: اگرچہ سربیا اور ہنگری میں دائیں بازو کے عوام پسند رہنما گر چکے ہیں، لیکن برصغیر کی دو بڑی معیشتوں میں یہ طاقت حاصل کر رہے ہیں۔
فرانس میں، انتہائی دائیں بازو کی صدارتی دوڑ میں سب سے آگے مارین لی پین نے اس ویک اینڈ پر اپنی 2027 کی مہم کا آغاز کیا، اور ملک گیر بے چینی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم کے خلاف سختی اور تارکینِ وطن مخالف ایجنڈے کو پیش کیا۔
جبکہ جرمنی میں، انتہائی دائیں بازو کی پارٹی 'الٹرنیٹو فار جرمنی' نے گزشتہ ماہ ریاستی انتخابات میں ریکارڈ 44 فیصد ووٹ حاصل کیے اور قومی سروے میں بھی پیش پیش ہے۔
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی تائید کا ٹرمپ کا تاریخی قدم ایک بار پھر بیرون ملک ان کے اثر و رسوخ کا امتحان لے گا۔منگل کے اسرائیلی انتخابات نیتن یاہو کے لیے کافی سخت ثابت ہونے والے ہیں، جنہوں نے اسرائیل ڈیفنس فورسز کے سابق چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ سے مقابلے کے دوران ٹرمپ کی تائید کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔
77 سالہ نیتن یاہو مختلف ادوار میں تقریباً 19 سال تک وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ تجزیہ کار اس الیکشن کو 7 اکتوبر 2023 کے سیکیورٹی کی ناکامی پر ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔جو بھی اسرائیل پر حکومت کرے گا، وہ مشرقِ وسطیٰ میں ٹرمپ کے اگلے اقدامات کا تعین کر سکتا ہے — بشمول اس کے کہ ایران میں جنگ کو مزید بڑھایا جائے یا نہیں۔

برازیل نے ٹرمپ کو لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت کی باگ ڈور ان کے قریبی اتحادی کے سپرد کرنے سے روک دیا، جس سے خطے میں قدامت پسندوںکی مسلسل سات کامیابیوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ دوسری ط...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn