Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

’جب ترنگا بھی سنسر کی قینچی سے محفوظ نہ ہو تو مسئلہ آرٹ نہیں بلکہ حکومت ہے‘، ریحان واڈرا معاملہ پر کانگریس کا سخت رد عمل

Admin
By Admin
Oct 22, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

’جب ترنگا بھی سنسر کی قینچی سے محفوظ نہ ہو تو مسئلہ آرٹ نہیں بلکہ حکومت ہے‘، ریحان واڈرا معاملہ پر کانگریس کا سخت رد عمل
’جب ترنگا بھی سنسر کی قینچی سے محفوظ نہ ہو تو مسئلہ آرٹ نہیں بلکہ حکومت ہے‘، ریحان واڈرا معاملہ پر کانگریس کا سخت رد عمل — October 22, 2026
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے بیٹے ریحان واڈرا کی ’تصویری نمائش‘ کا ایک پروگرام تنازعہ کا شکار ہو گیا ہے۔ دہلی میں موجود بیکانیر ہاؤس (جس کا انتظام و انصرام راجستھان حکومت دیکھتی ہے) میں صرف ان کی ہی کھینچی گئی تصویروں کی نمائش 22 اکتوبر سے مقرر ہے، لیکن اس سے چند گھنٹے پہلے 21 اکتوبر کو کئی تصویروں پر اعتراض کرتے ہوئے ہٹانے کی ہدایت دی گئی۔

دراصل بدھ کے روز فنکار و فوٹوگرافر ریحان واڈرا کی نمائش ’نو آئیڈیا اِز فائنل‘ کا ریویو ہوا، جس کے بعد عجیب و غریب حالات دیکھنے کو ملے۔ ریحان واڈرا کا الزام ہے کہ بدھ کی دوپہر 3.30 بجے کہا گیا کہ اگر شام 5 بجے تک تصویریں نہیں ہٹائی گئیں تو نمائش رَد کر دی جائے گی۔ وہ ی بھی بتاتے ہیں کہ انھوں نے نمائش سے جڑی اہم باتیں اور لے آؤٹ بہت پہلے ہی بیکانیر ہاؤس مینجمنٹ کے ساتھ شیئر کر دیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے کچھ تصویریں ہٹا دیں۔ ریحان کا کہنا ہے کہ ان تصویروں میں کوئی سیاسی پیغام نہیں تھا، بلکہ دہلی میں ہوئے مظاہروں کو تصویری شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک ہندوستانی فنکار ہونے کے ناطے جو کچھ سماج میں ہو رہا ہے، اسے درج کرنا میری ذمہ داری ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فنکاروں کے کام کو سنسر کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ہندوستانی پرچم کی تصویر بھی ہٹا دی گئی ہے۔

اس معاملہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’جب ترنگا بھی سنسر کی قینچی سے محفوظ نہ ہو، تو شاید مسئلہ فن نہیں، بلکہ حکومت ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ مطلع کرتے ہیں کہ ’’ریحان واڈرا کی آرٹ نمائش ’نو آئیڈیا اِز فائنل‘ کے افتتاح سے محض چند گھنٹے پہلے، بیکانیر ہاؤس نے 74 فن پارے، یعنی نمائش کے تقریباً نصف حصے کو ’سیاسی‘ قرار دے کر ہٹوا دیا۔‘‘ ہٹائی گئی تصویروں سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ تصاویر میں محض احتجاجی مظاہروں کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا تھا اور ان میں سے ایک بھی تصویر توہین آمیز یا اشتعال انگیز نہیں تھی۔ انھوں نے سوال کیا کہ آخر ان تصویروں کو ہٹانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ آخر قصور کیا تھا؟

پون کھیڑا نے بتایا کہ ریحان کو جن فن پاروں کو برقرار رکھنے کے لیے ’لڑنا‘ پڑا، ان میں ہندوستانی پرچم کی ایک تصویر بھی شامل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’فن پاروں کے لیے مخصوص دیواروں پر اسپاٹ لائٹس کی روشنی میں چمکتے ہوئے لوہے کے کیلوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا تھا، جو سنسرشپ کی ایک خوف ناک علامت بن گئے تھے۔‘‘ انھوں نے مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ذرا تصور کیجیے، یہاں ایک ایسی حکومت ہے جس کے لیے نہ صرف احتجاجی مظاہرے، بلکہ ان مظاہروں کی تصاویر اور خود ترنگا بھی ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ’’اب اس حکومت کا خاتمہ قریب ہونا چاہیے۔‘‘

ریحان واڈرا کی کئی تصویریں نمائش سے ہٹائے جانے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس قدم کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس کی تصویریں دہلی میں ہوئے مظاہروں کی تھیں۔ ان میں کوئی تبصرہ لکھا ہوا نہیں تھا۔ کسی کے خلاف ہتک آمیز بات نہیں تھی۔ وہ صرف تصویروں کی شکل میں مظاہرے کا دستاویز تھا۔‘‘ نمائش سے بڑی تعداد میں تصویریں ہٹائے جانے کو پرینکا نے ملک بھر کے نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ پرینکا نے اس بارے میں اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ جاری کر ریحان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جب کوئی طاقتور شخص کسی دوسرے کے اظہار خیال سے خوف زدہ ہو جاتا ہے، تو اسے احساس نہیں ہوتا، لیکن وہ پہلے ہی اس طاقت سے محروم ہو چکا ہوتا ہے جسے بچانے کی وہ کوشش کر رہا ہوتا ہے۔‘‘ وہ بیٹے سے مخاطب ہوتے ہوئے آگے لکھتی ہیں کہ ’’تم سچائی کے ساتھ کھڑے رہو، ہر خوب صورت چیز خود تم تک پہنچنے کا راستہ تلاش کر لے گی۔ مجھے تم پر فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘

بہرحال، ریحان واڈرا نے بیکانیر ہاؤس انتظامیہ کی کارروائی پر افسوس ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عزائم کا بھی اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مجھے ترنگے کی 2 تصویریں بھی ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن میں نے ہندوستانی پرچم کی تصویر ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ فی الحال یہ نمائش کچھ تصویروں کے ساتھ جاری رہے گی، لیکن میں احتجاجی مظاہروں کی سبھی تصویروں کا پورا کلیکشن دکھانے کے لیے جلد ہی کوئی دوسری جگہ تلاش کروں گا۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے بیٹے ریحان واڈرا کی ’تصویری نمائش‘ کا ایک پروگرام تنازعہ کا شکار ہو گیا ہے۔ دہلی میں موجود بیکانیر ہاؤس (جس کا انتظام و انصرام راجستھان...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn