برطانیہ اور کینیڈا کی طرف سے پابندیوں کی زد میں آ چکے اسرائیلی ادارے نے مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں پہلی یہودی بستی کا تعمیراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس ادارے نے فلسطینیوں کی سرزمین پر شیخ جراح میں 122 گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ادارے کی بین الاقوامی قانون کے خلاف سرگرمیوں کی وجہ سے برطانیہ اور کینیڈا نے پہلے ہی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
اسرائیل کا یہ ادارہ خود کو بغیر نفع نقصان کے یہودیوں کے حق میں کام کرنے والا ایک رضاکارانہ فورم بیان کرتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ 'فوکس' فلسطینیوں کی سرزمین سے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے لیے ہے۔
یہ اسرائیلی فورم کئی عشروں سے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے حق میں فعال ہے۔ اب اس نے مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں پہلی یہودی بستی تعمیر کرنے کا منصبہ بنایا ہے۔ خیال رہے مشرقی یروشلم وہ مقبوضہ علاقہ ہے جسے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی تجویز ہے اور یہ مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی اس علاقے پر مسلمانوں کا حق ہے اسرائیل کا نہیں۔
یہودی آباد کاروں کے لیے ایک سو بائیس مجوزہ گھروں کے منصوبے کو امانہ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ فلسطینی اب اس علاقے میں امان سے محروم کر دیے جائیں گے۔
اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہودی بستی پہلے سے موجود گھروں کو مسمار کرکے قائم کی جائے گی اور ان گھروں کے مالکان کو اس علاقے سے بے دخل کیا جائے گا۔ اس غیر قانونی اور ناجائز یہودی بستی کے لیے جو جگہ منتخب کی گئی ہے وہ تاریخی شیفرڈ ہوٹل سے متصل گھروں کی جگہ ہے۔ جنہیں گرا کر اسرائیلی حکومت کثیر منزلہ اپارٹمنٹس یہودی آباد کاروں کے لیے بنانا چاہتی ہے۔
اس 12 منزلہ عمارت کی تعمیر کرنے کے لیے فلسطینوں کی رہائشیں تو گرا دی جائیں گی البتہ شیفرڈ ہوٹل کی اپنی عمارت برقرار رکھی جائے گی۔ شیفرڈ ہوٹل کی ملکیت فلسطین کے حسینی خاندان کی تھی۔ لیکن اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں اس نجی ملکیت کی پروا کیے بغیر اس ہوٹل کو یہودی خاندانوں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اسی لیے اب اس کو مسمار نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس پر پہلے ہی یہودی خاندان قابض ہو چکے ہیں۔
اس منصوبے کے لیے 11 نومبر کو یروشلم کی مقامی منصوبہ بندی و تعمیراتی کمیٹی کے سامنے ابتدائی سماعت ہو گی۔
عمیم تاتارسکی نامی ایک محقق کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں یہودی آباد کاری کا یہ منصوبہ ابھی ابتدا ہے۔ اس آغاز کے بعد مشرقی یروشلم میں ہزاروں نئے گھر یہودیوں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کو اسرائیلی ہاؤسنگ کے محکمے اور یروشلم ترقیاتی ادارے کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ مقامی فلسطینیوں کی جانب سے مسلسل یہ جدوجہد رہی ہے کہ ان کے گھروں کو اسرائیلی انتظامیہ مسمار کر کے انہیں بےدخل نہ کرے لیکن اس کے باوجود یہودی بستیوں کی تعمیر کا یہ نیا آغاز ہو رہا ہے۔
' پیس ناؤ ' نامی این جی او کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اس علاقے میں مجموعی طور پر 247000 ایکڑ کا علاقہ قبضے میں کر لیا ہے۔ یہ ساری زمین 'سی' ایریا میں واقع ہے۔ اس میں رہائشی کے علاوہ تجارتی و زرعی اراضی بھی شامل ہے۔
برطانیہ اور کینیڈا کی طرف سے پابندیوں کی زد میں آ چکے اسرائیلی ادارے نے مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں پہلی یہودی بستی کا تعمیراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس ادارے نے فلسطینیوں ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments