فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونان میں بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ پولیس اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ طلبہ، سکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت ایتھنز اور دیگر یونانی شہروں کی سڑکوں پر مارچ کیا۔
پولیس کے ایک ترجمان نے "فرانس پریس" کو بتایا کہ دوپہر کے وقت دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً 5 ہزار افراد جمع ہوئے، ملک کے دوسرے بڑے شہر تھیسالونیکی میں مزید 3 ہزار افراد اکٹھے ہوئے۔ اسیش طرح سرکاری ٹیلی ویژن "ای آر ٹی" نے ملک کے مغرب میں واقع شہر پاتراس میں بھی ایک مارچ میں 3 ہزار سے زیادہ افراد کی شرکت کی خبر دی ہے۔
ایتھنز کے قریب ایک بلدیہ میں کام کرنے والی پچاس سالہ ملازمہ ماریا نے پارلیمنٹ کے سامنے واقع سنتاگما سکوائر کی طرف جانے والے ایک مارچ میں شرکت کے دوران ’’ فرانس پریس‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، سکولوں میں عملے کی کمی ہے اور سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔
سیکنڈری لیول کے طلبہ اور اساتذہ بنیادی ڈھانچے اور عملے کی کمی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرین تعلیم کے شعبے پر عوامی اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سیکنڈری سکول ٹیچرز یونین کے مطابق سکولوں میں 15 ہزار اساتذہ کی کمی ہے۔
تھیسالونیکی کی ارسطو یونیورسٹی میں فلسفہ اور پیڈاگوجی کے طلبہ کی نمائندہ کاتیا کوبوسیدو نے "فرانس پریس" کو بتایا کہ خواہ یونان ہو یا فرانس، ہم مفت اور سرکاری تعلیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جہاں تک ایتھنز کا تعلق ہے طالب علم یانس پاپانیکولاؤ نے فرانس میں مظاہروں پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا فرانس میں مظاہرے یہاں تبدیلی کے لیے کام کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میرے سکول کی کچھ کلاسوں کے اندر کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ہیٹنگ کے وسائل کام نہیں کر رہے۔
ہر جگہ انقلاب
طلبہ کے بڑے شہر تھیسالونیکی میں ایسے بینرز اٹھائے گئے جن پر لکھا تھا "یونان اور فرانس، ہر جگہ انقلاب، وہی مسائل اور وہی دشمن" اور "یونان سے فرانس تک، ہم مفت اور سرکاری تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں"۔ کاتیا کوبوسیدو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ہمارے پاس اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا منصوبہ ہے کیونکہ تعلیم کے اخراجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زندگی کے اخراجات روزانہ ہمارے والدین کو نچوڑ رہے ہیں۔ مالی بحران کے بعد سے یونان میں کم از کم اجرت میں اضافے کے باوجود یہ کم از کم جرت 920 یورو سے زیادہ نہیں ہے۔
منگل کی شام درجنوں طلبہ نے ایتھنز اور تھیسالونیکی میں خیمے لگا لیے تھے۔ تھیسالونیکی یونیورسٹی میں فزکس کے طالب علم فلپوس ارمین نے کہا بہت سے یورپی ممالک انہی مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے وقت میں جب یونان کا پڑوسی ملک البانیہ میں بھی مظاہرے جاری ہیں، پبلک سیکٹر کے ملازمین کی یونین "ادیدی" صبح کے وقت کام بند کرنے کا اعلان کرنے کے بعد طلبہ کے احتجاج میں شامل ہو گئی ہے۔
اجرتوں میں اضافہ
پبلک سیکٹر کے ملازمین کی یونین نے فرانس میں عوام اور نوجوانوں کے پرہجوم مظاہروں کی تعریف کی۔ یونین نے مطالبات کی ایک سیریز پیش کی جن میں اجرتوں میں اضافہ اور اساتذہ کو حیاتیاتی تعاون کی فراہمی شامل ہیں۔ ایتھنز کے مارچ کے دوران 17 سالہ نیکوس مافرودیس نے وضاحت کی کہ مرکزی ایتھنز میں واقع ان کے سکول کے بیت الخلاء میں چھت کے کچھ حصے گر گئے ہیں۔
حال ہی میں تھیسالونیکی کے قریب تھیرمی میں کلاس روم کی چھت کا ایک حصہ گرنے سے 14 سالہ طالب علم زخمی ہو گیا تھا۔ ایتھنز میں بھی گیس لیکج کی اطلاع کے بعد ایک بڑے سیکنڈری سکول نے اپنے دروازے بند کر دیے تھے۔ یورپی شماریاتی دفتر کے مطابق 2023 میں یونان نے اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا 3.3 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا۔ یورپی یونین میں اوسط 4.7 فیصد تھی۔ یونانی محافظ کار حکومت نے حالیہ دنوں کے دوران فرانس میں ہونے والے مظاہروں اور تشدد کے واقعات سے کسی بھی موازنے سے بچنے کی کوشش کی ہے۔
وزیر اعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس نے پیر کے روز اس بات کی توثیق کی کہ یونان 2009 اور 2018 کے درمیان مالی بحران کے دوران ملک میں دیکھے گئےعظیم سماجی اضطراب کے دور میں کبھی واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضطراب غیر مقبول ریاستی بچت کے اقدامات سے ممتاز تھا جس نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا اور احتجاج اور تشدد کے واقعات کو جنم دیا۔ گزشتہ ستمبر میں یورو سٹیٹ کے مطابق یونان میں افراط زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر 5.1 فیصد ریکارڈ کیے جانے کے بعد یورو زون میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل تھی۔ اس زون میں یہ شرح اوسط 3.8 فیصد تھی۔
فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونان میں بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ پولیس اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ طلبہ، سکول کے بچوں، اساتذہ اور ملازمین نے مہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments