Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

نیہا بورا دہلی پولیس کے 'امن بانڈ' نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع

Admin
By Admin
Oct 20, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

نیہا بورا دہلی پولیس کے 'امن بانڈ' نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع
نیہا بورا دہلی پولیس کے 'امن بانڈ' نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع — October 20, 2026
نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کے ایک نوٹس کو چیلنج کیا۔ اس نوٹس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 'امن برقرار رکھنے' کے لیے ایک اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے روبرو ایک بانڈ جمع کرائیں۔

نوٹس کے مطابق، انہیں امن برقرار رکھنے کی ضمانت کے طور پر دس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضامن پیش کرنے کا کہا گیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ نیہا بورا کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ عدالت میں ایک عرضی دائر کر دی گئی ہے۔ ٹیم نے مزید کہا کہ وہ عدالت کی 'ویکیشن بینچ' (وہ بینچ جو عدالتی چھٹیوں کے دوران کام کرتی ہے) کے سامنے فوری سماعت کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت 16 اکتوبر کو دہلی پولیس کی جانب سے ان کی حراست کے بعد سامنے آئی ہے۔ وہ اس دن سی جے پی کے 'لہرا دو ترنگا' مارچ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں، جو کناٹ پلیس (راجیو چوک) میں منعقد ہونا تھا۔

پولیس کے مطابق، بورا کو جمعہ کی شام اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مارچ میں شامل ہونے کے لیے جا رہی تھیں۔ 'دہلی پولیس ایکٹ' کی دفعہ 65 کے تحت ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد، انہیں ہفتے کی صبح سویرے رہا کر دیا گیا۔ یہ مارچ الیکشن کمیشن کے 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (ایس آئی آر) عمل کے خلاف جاری احتجاج کے دوران منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے احتساب کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

سی جے پی نے اس مارچ کے زریعہ اپنے دو قومی ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کی مخالفت بھی کی۔ مظاہرے شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے دیپکے اور نیہا بورا سمیت کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس واقعے نے اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کے منتظمین اور شرکاء کے خلاف کیے جانے والے احتیاطی اقدامات پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کے ایک نوٹس کو چیلنج کیا۔ اس نوٹس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 'امن برقرار رکھنے' کے لیے ایک اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے روبرو ایک بانڈ جمع کرائیں۔

نوٹس کے مطابق، انہیں امن برقرار رکھنے کی ضمانت کے طور پر دس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضامن پیش کرنے کا کہا گیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ نیہا بورا کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ عدالت میں ایک عرضی دائر کر دی گئی ہے۔ ٹیم نے مزید کہا کہ وہ عدالت کی 'ویکیشن بینچ' (وہ بینچ جو عدالتی چھٹیوں کے دوران کام کرتی ہے) کے سامنے فوری سماعت کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت 16 اکتوبر کو دہلی پولیس کی جانب سے ان کی حراست کے بعد سامنے آئی ہے۔ وہ اس دن سی جے پی کے 'لہرا دو ترنگا' مارچ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں، جو کناٹ پلیس (راجیو چوک) میں منعقد ہونا تھا۔

پولیس کے مطابق، بورا کو جمعہ کی شام اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مارچ میں شامل ہونے کے لیے جا رہی تھیں۔ 'دہلی پولیس ایکٹ' کی دفعہ 65 کے تحت ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد، انہیں ہفتے کی صبح سویرے رہا کر دیا گیا۔ یہ مارچ الیکشن کمیشن کے 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (ایس آئی آر) عمل کے خلاف جاری احتجاج کے دوران منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے احتساب کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

سی جے پی نے اس مارچ کے زریعہ اپنے دو قومی ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کی مخالفت بھی کی۔ مظاہرے شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے دیپکے اور نیہا بورا سمیت کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس واقعے نے اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کے منتظمین اور شرکاء کے خلاف کیے جانے والے احتیاطی اقدامات پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کے ایک نوٹس کو چیلنج کیا۔ اس نوٹس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 'امن برقرار رکھنے' کے لیے ایک اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کے روبرو ایک بانڈ جمع کرائیں۔

نوٹس کے مطابق، انہیں امن برقرار رکھنے کی ضمانت کے طور پر دس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضامن پیش کرنے کا کہا گیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ نیہا بورا کی قانونی ٹیم نے بتایا کہ عدالت میں ایک عرضی دائر کر دی گئی ہے۔ ٹیم نے مزید کہا کہ وہ عدالت کی 'ویکیشن بینچ' (وہ بینچ جو عدالتی چھٹیوں کے دوران کام کرتی ہے) کے سامنے فوری سماعت کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت 16 اکتوبر کو دہلی پولیس کی جانب سے ان کی حراست کے بعد سامنے آئی ہے۔ وہ اس دن سی جے پی کے 'لہرا دو ترنگا' مارچ میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں، جو کناٹ پلیس (راجیو چوک) میں منعقد ہونا تھا۔

پولیس کے مطابق، بورا کو جمعہ کی شام اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مارچ میں شامل ہونے کے لیے جا رہی تھیں۔ 'دہلی پولیس ایکٹ' کی دفعہ 65 کے تحت ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد، انہیں ہفتے کی صبح سویرے رہا کر دیا گیا۔ یہ مارچ الیکشن کمیشن کے 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (ایس آئی آر) عمل کے خلاف جاری احتجاج کے دوران منعقد کیا گیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے احتساب کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

سی جے پی نے اس مارچ کے زریعہ اپنے دو قومی ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کی مخالفت بھی کی۔ مظاہرے شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے دیپکے اور نیہا بورا سمیت کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔

اس واقعے نے اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کے منتظمین اور شرکاء کے خلاف کیے جانے والے احتیاطی اقدامات پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

'کاکروچ جنتا پارٹی' کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ایک اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے اور 'پیس بانڈ' (امن برقرار رکھنے کا حلف نامہ) جمع کرانے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

دہلی پولیس کے مطابق، بورا اور دیپکے دونوں کو 16 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے تناظر میں، جمعہ کی شام احتیاطی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

بعد ازاں، 'بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا' (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 170 کے تحت دیپکے کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ میں دہلی پولیس کے ایک نوٹس کو چیلنج کیا۔ اس نوٹس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ 'امن برقرا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn