Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

چورباغان پنڈال حادثہ: سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں پر پولیس کا سخت ایکشن، کوچ بہار سے ایک ملزم گرفتار

Admin
By Admin
Oct 20, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

چورباغان پنڈال حادثہ: سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں پر پولیس کا سخت ایکشن، کوچ بہار سے ایک ملزم گرفتار
چورباغان پنڈال حادثہ: سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں پر پولیس کا سخت ایکشن، کوچ بہار سے ایک ملزم گرفتار — October 20, 2026
چورباغان سار بوجنین میں ہوئے دردناک حادثے کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے تحقیقاتی ٹیموں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے. افواہیں پھیلانے کے الزام میں پولیس نے ایک شخص کو پہلے ہی گرفتار کر لیا ہے . پیر کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے سی پی کرائم نے بتایا کہ حادثے کی رات کس نے مائیک کے ذریعے پنڈال گرنے کی جھوٹی خبر نشر کی تھی، اس کی باریکی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: "چورباغان حادثے میں 60 افراد کی ہلاکت کی افواہ پھیلائی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حادثے میں 19 افراد کی موت ہوئی ہے۔ جان بحق ہونے والوں کے لواحقین سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ افواہ پھیلانے کے جرم میں کوچ بہار سے ایس ٹی ایف (STF) نے عین الحق نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جو کوچ بہار کا ہی رہائشی ہے۔ فی الحال پنڈال کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کی باریکی سے جانچ کی جا رہی ہے۔"اس کے علاوہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی نے مائیک کے ذریعے پنڈال گرنے کا افواہی اعلان کیا تھا، جس کے سنتے ہی پنڈال میں موجود درشن کے لیے آئے لوگوں میں شدید افراتفری اور بدحواسی پھیل گئی۔ اے سی پی کرائم نے بتایا کہ متاثرہ پنڈال کے ٹوٹنے یا گرنے کے کوئی نشانات نہیں ملے ہیں۔ مائیک کے ذریعے یہ اعلان کس نے کیا، اس کی تلاش جاری ہے اور تمام نامزد ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ چورباغان میں اس المناک حادثے کے فوری بعد وزیر اعلیٰ نے بھوانی بھون میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔ واقعے کے ذمہ دار منتظمین سمیت 7 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کے لیے 'سیٹ' تشکیل دینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اسی دوران، ریاستی پولیس کی دیگر شاخوں میں خدمات انجام دینے والے 7 تجربہ کار آئی پی ایس افسران کو دوبارہ پوجا کے انتظامات کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان افسران کو پوجا کے دوران بڑی بھیڑ پر قابو پانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ چورباغان جیسے کسی بھی دوسرے ناخوشگوار واقعے سے شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر فی الحال کئی دیگر معروف پنڈالوں میں بھی مورتیوں کے درشن پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

چورباغان سار بوجنین میں ہوئے دردناک حادثے کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے تحقیقاتی ٹیموں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے. افواہیں پھیلانے ک...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn