جرمنی نے پیر کے روز ایرانی سفیر کو طلب کر لیا۔ تہران کے ایما پر اسرائیل کی حامی معروف شخصیات کو قتل کرنے کی 'مذموم' منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں گذشتہ ہفتے دو افراد کو قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ اقدام اس پیش رفت کے بعد کیا گیا ہے۔
ہیمبرگ کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز ایک ڈینش اور ایک افغان شہری کو مجرم قرار دیا۔ ان پر جرمنی میں یہودی برادری کی نمائندگی کرنے والے مرکزی گروپ کے صدر اور جرمن-اسرائیلی سوسائٹی کے سربراہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔
جرمن وزارتِ خارجہ نے ایکس پر کہا کہ ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا نیز یہ کہ تہران کو 'ہمارے آزاد معاشرے کو دھمکانے' کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا، "قتل کی ان مذموم کوششوں کے قانونی نتائج ہوں گے۔"
نیز کہا، "ہم یہودی زندگی اور اس کا دفاع کرنے والوں پر حملے برداشت نہیں کرتے خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور خصوصاً جرمنی میں تو بالکل نہیں۔"
ڈینش شہری کو ساڑھے آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی جس کی جزوی شناخت علی حسن ایس کے طور پر ہوئی ہے۔
استغاثہ کے مطابق 54 سالہ ملزم براہِ راست ایرانی انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا تھا اور اسے جرمنی میں قتل اور آتش زنی کی کارروائیوں کے لیے اہداف کی نشاندہی کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
استغاثہ نے بتایا کہ اسرائیل کے حامی نمایاں افراد کے علاوہ وہ برلن میں ایک یہودی دکاندار کی دکان کو بھی نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
افغان شہری جسے اس کا ساتھی بنایا گیا تھا، کو ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ایک تیسرے شخص کو بھرتی کرنے اور اسے جرمن-اسرائیلی سوسائٹی کے سربراہ پر حملے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے پر رضامند ہو گیا تھا۔
ان دونوں افراد کو گذشتہ سال ڈنمارک میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں سے انہیں جرمنی کے حوالے کر دیا گیا اور بعد ازاں جرمنی میں ہی انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ وہ 'ایران کی جانب سے منظم کردہ دہشت گرد سرگرمیوں' کے مرتکب پائے گئے۔
جب ان دونوں افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی تو برلن میں ایرانی سفارت خانے نے ایک بیان میں انہیں 'ایران کے دشمنوں کے ایما پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات' قرار دیا اور مسترد کر دیا تھا۔
جرمنی نے پیر کے روز ایرانی سفیر کو طلب کر لیا۔ تہران کے ایما پر اسرائیل کی حامی معروف شخصیات کو قتل کرنے کی 'مذموم' منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں گذشتہ ہفتے دو افراد کو قید کی سزا سن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments