لکھنؤ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے گریجویٹ اور ٹیچر حلقوں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ اور بدعنوان افسران کی ملی بھگت سے ووٹروں کو اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود حکمراں جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں اساتذہ اور گریجویٹ ووٹر ریاستی حکومت سے ناراض ہیں اور بڑی تعداد میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ان کے مطابق، آگرہ، فتح پور، اٹاوہ، اوریا، مظفر نگر، غازی آباد اور نوئیڈا سمیت کئی اضلاع میں شکست کے خدشے کے باعث مبینہ طور پر انتخابی بے ضابطگیوں کا سہارا لیا گیا۔
’عوام نے ووٹ چوری کو پہچان لیا ہے‘
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، ’’آگرہ، فتح پور، اٹاوہ، اوریا، مظفر نگر اور غازی آباد و نوئیڈا سمیت کئی دیگر اضلاع میں اپنی شکست دیکھ کر انہوں نے دھاندلی کا راستہ اختیار کیا۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام نے ان کی ’ووٹ چوری‘ کو پہچان لیا ہے، اس لیے انتظامیہ اور بدعنوان افسران نے ملی بھگت کرکے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست ہوگی۔ قانون ساز کونسل کے اہم حلقوں، جن میں الہ آباد-جھانسی ڈویژن کا گریجویٹ حلقہ اور گورکھپور-فیض آباد ڈویژن کا ٹیچر حلقہ شامل ہیں، میں جمعہ کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پولنگ مکمل ہوئی۔ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو مقرر ہے۔
لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود برقرار رہے گی ہندوستانیت
مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما امت شاہ کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ اپوزیشن دراندازوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے، اکھلیش یادو نے کہا کہ ہندوستان کی بھائی چارے کی روایت، ثقافت اور ہندستانیت لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’اس ملک میں، ہندوستان کے بھائی چارے، ثقافت اور ہماری ہندستانیت میں بہت کچھ سمویا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کو ’درانداز‘ کہا جا رہا ہو، لیکن ہماری ہندستانیت برقرار رہے گی۔ اس کی بنیاد ایک دوسرے کا احترام کرنے، مل جل کر آگے بڑھنے اور سب کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنے پر ہے۔ کوئی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہاں تک کہ وہ لوگ بھی نہیں جو دوسروں کو درانداز قرار دیتے پھرتے ہیں۔‘‘ اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حقیقت میں وہ لوگ خود درانداز ہیں جو دوسروں کو اس نام سے پکارتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی درانداز موجود ہیں تو ان کی فہرست ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنگال اور بہار کے لیے ایسی فہرست موجود نہیں، لیکن گجرات کے معاملے میں ان کے پاس فہرست ہے۔
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے گریجویٹ اور ٹیچر حلقوں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر انتخابی دھان...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments