Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ہماری شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی:قالیباف

Admin
By Admin
Sep 21, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ہماری شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی:قالیباف
ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ہماری شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی:قالیباف — September 21, 2026
ایرانی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے اپنے ملک کے سابقہ مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آج اتوار کو اپنے بیان میں کہا: سفارتی محاذ پر ہمارا مؤقف بالکل واضح، منطقی اور ناقابلِ سمجھوتا ہے۔ایرانی چیف مذاکرات کار نے مزید کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنے پیغامات اور شرائط فریقِ مقابل تک واضح طور پر پہنچا دی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ایسنا‘‘ نے یہ بیان نقل کیا ہے۔انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا: مذاکرات کی سابقہ شرائط کی طرف واپس جانے یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں، جب تک ان شرائط کو پورا نہیں کیا جاتا، ایرانی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور امریکہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔


اندرونی محاذ پر قالیباف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کو ترجیح دینے اور کسی بھی سفارتی راستے کو مسترد کرنے والا نقطۂ نظر ملک کو گھساؤ اور ایسی جنگ کی طرف لے جاتا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔

انہوں نے بیک وقت یہ بھی کہا کہ ملک کے اندر وہ دھڑا جو ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے، ملک کو اپنے وسائل اور قومی وقار دشمن کے حوالے کرنے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ حکام لامحدود جنگ اور ایران کو مستقل بحران کی حالت میں رکھنے کے خواہاں نہیں ہیں۔

اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے اپنے ملک کی شرائط دہرائی تھیں۔

انہوں نے ہفتے کی رات ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ تہران نے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان کسی بھی مذاکرات یا بات چیت کے آغاز کے لیے ثالثوں کے ذریعے امریکی حکومت کو 7 شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر واشنگٹن اس مشکل صورت حال سے نکلنا چاہتا ہے، جس میں اس نے خود کو پھنسا لیا ہے اور اس میں مزید گہرائی تک الجھنے سے بچنا چاہتا ہے ،تو اس کے پاس ایران کے حقوق کو تسلیم کرنے اور اس کی شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے گزشتہ جون کے وسط میں 14 نکاتی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ایک ایسے حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا جو جنگ کا مستقل خاتمہ کر سکے۔

دونوں فریقوں نے ابتدائی 60 روزہ مدت کے دوران حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔اس وقت ہونے والے معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران 60 روز تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ تاہم یہی شق امریکی حکومت اور ایرانی قیادت کے درمیان ایک نئے تنازع کا باعث بن گئی۔

دوسری جانب امریکہ کو ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ واپس لینے پر رضامند ہونا تھا۔تاہم یہ سب کچھ نہ ہو سکا اور بعد ازاں معاہدہ ناکام ہو گیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

یہ تنازع یمن تک بھی پھیل گیا، جہاں حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے متعدد علاقوں پر قبضے کے بعد حوثیوں اور یمنی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

ایرانی مجلسِ شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے اپنے ملک کے سابقہ مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آج اتوار کو اپنے بیان میں کہا: سفارتی محاذ پر ہمارا مؤقف بالکل و...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn