ایران اس وقت امریکی بحری محاصرے کے ساتھ ساتھ پابندیوں کی زد میں بھی ہے، جبکہ اسے بڑے اقتصادی دباؤ اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ اور پابندیاں کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔
عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا: ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ حکمت اور منطق کے راستے پر چلے گا، تاہم اگر اس نے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو ہم تیار ہیں۔ ایرانی میڈیا نے ان کا بیان نقل کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی فوجی حملے کا اس سے بھی زیادہ تباہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔تاہم عراقچی نے واضح کیا کہ تہران سفارتی ذرائع سے منصفانہ حل تک پہنچنے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے کہا:دشمن کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے، ہم سفارتی ذرائع سے منصفانہ حل تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران سفارتی حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاع کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آج ایک بار پھر آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے اپنے ملک کا مؤقف دہرایا اور کہا کہ جب تک ایران کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، یہ آبی گزرگاہ نہیں کھولی جائے گی۔
تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو نئی تجاویز بھی بھیجی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ روز ہفتے کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا نہیں بلکہ امریکہ کا کنٹرول ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے پر تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پانے والا ابتدائی جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے دونوں فریق اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
دونوں ممالک نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر قطری ثالثی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات بھی کیے تھے۔ اس دوران تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے اسے مسترد کر دیا تھا۔
ایران اس وقت امریکی بحری محاصرے کے ساتھ ساتھ پابندیوں کی زد میں بھی ہے، جبکہ اسے بڑے اقتصادی دباؤ اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ او...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments