فرانس میں بڑھتے پرتشدد مظاہروں کے بعد دارالحکومت پیرس سمیت چند دوسرے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کی ہدایت پر جن شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے ان میں پیرس کے علاوہ لیون، نائیس، لِلی اور اس سے جڑے شمالی قصبات شامل ہیں جبکہ کچھ مزید علاقوں میں بھی بندشیں لگائی گئی ہیں۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب حکام احتجاج کی اس لہر سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا سلسلہ سنیچر کو شروع ہوا تھا جو اتوار اور پیر کو بھی جاری رہا۔
اس دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے جبکہ کئی عمارتوں کو آگ بھی لگائی گئی۔
بعض علاقوں میں صرف رات کے وقت کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر دن کے وقت بھی موثر رہے گا۔
کرفیو کے احکامات میں دارالحکومت پیرس کے ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جو احتجاج کے دوران لوٹ مار کا مرکز رہے جبکہ ان دونوں مقامات پر کسی بھی قسم کے اجتماع پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
لیون
ملک کے تیسرے بڑے شہر لیون میں بھی پیر کی شام سے کرفیو نافذ ہو گیا ہے، یہ وہی شہر ہے جہاں دو روز قبل محکمہ ٹوررزم کے ایک دفتر کو آگ لگا دی گئی تھی۔
جن زونز میں کرفیو لگایا گیا ہے وہاں عوام کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور حکام کی جانب سے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔
رپورٹس کے مطابق کرفیو کا دورانیہ آج منگل تک کا ہے تاہم اس میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
نائیس
اسی طرح رویرا کے سب سے بڑے شہر نائس میں میئر کے حکم کے تحت کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ للی، ڈوئی، واٹیگنیز اور ڈینین کے علاقوں میں بھی کرفیو لگانے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔
اسی طرح فرانس کے چوتھے بڑے میٹروپولیٹن علاقے لیل اور شمالی فرانس میں واقع قصبات دوئے، واتینی، دنین میں رات کے وقت لگائی گئی پابندی کے مطابق 16 سال سے کم عمر کے افراد سرپرست کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے جبکہ یہ احکامات بعض دوسرے علاقوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
اسی طرح لی مینس کے شمالی حصے میں واقع گاؤں کولینز میں منگل اور بدھ کے لیے ایسی پابندی لگائی گئی ہے جس کے دوران 16 سال سے کم عمر کے افراد باہر نہیں نکل سکیں گے۔
علاوہ ازیں مظاہروں میں شدت آنے کے بعد کیریبین جزائر گواڈیلوپ کے حکام نے بھی اہم مقامات پر کرفیو لگانے کا حکم دیا ہے۔
ایک روز قبل ہی صدر ایمانوئیل میکخواں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو ملک کی تاریخ کے بدترین ہنگامے ہوئے جن کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، مظاہروں میں دکانوں کو لوٹا گیا جبکہ دوسری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’یہ مناظر دیکھ کر ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے، فرانسیسی شہری اپنے ملک کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ان واقعات کا کوئی جواز نہیں، نہ ہی ان کو درست قرار دیا جا سکتا ہے، آجہم سب شرمندگی اور غصہ محسوس کر رہے ہیں۔‘
احتجاج کا یہ سلسلہ مہنگائی اور عوامی کو ملنے والی سروسز میں کمی کے خلاف شروع ہوا ہے جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
فرانس میں بڑھتے پرتشدد مظاہروں کے بعد دارالحکومت پیرس سمیت چند دوسرے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments