امریکی میڈیا کی جانب سے خبر دیے جانے کے بعد کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے صدور کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی تجویز دی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسے اجلاس کے لیے تیار ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق تاہم، انھوں نے زور دیا کہ اس ملاقات کا محور جوہری ہتھیاروں کی تخفیف ہوگا، نہ کہ یوکرین کا معاملہ۔ امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر روس کا مؤقف ’قابلِ قبول‘ رہا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے پوتن کی اس تجویز سے متعلق رپورٹ نے یورپ میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کیئف کی جانب سے بھی اس کی مذمت کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور شخص کیئف کی جانب سے مذاکرات کرے۔
امریکی میڈیا کی جانب سے خبر دیے جانے کے بعد کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے صدور کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی تجویز دی ہے، امر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments