امریکی ریاست کیلیفورنیا نے باضابطہ طور پر 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اب 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ کی 32 ریاستوں میں اب بھی کم عمری کی شادی کی کسی نہ کسی شکل قانونی اجازت ہے۔
نیا قانون یکم جنوری سے نافذ العمل ہو گا اور اس کے مطابق ریاست کیلیفورنیا میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 برس مقرر کی گئی ہے۔
گورنر گیون نیوسم نے اس قانون کو ’کیلیفورنیا کے نوجوانوں اور نابالغوں کے تحفظ کے لیے ایک طویل عرصے سے منتظر اقدام‘ قرار دیا۔
انھوں نے اس بل پر کورٹنی سٹوڈن کی موجودگی میں دستخط کیے۔ سٹوڈن محض 16 برس کی تھیں جب ان کے والدین نے انھیں 50 سالہ ہالی وڈ اداکار ڈگ ہچیسن سے شادی کی اجازت دی تھی۔
امریکہ میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مہم چلانے والی تنظیم ’اَن چینڈ ایٹ لاسٹ‘ کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ہر سال تقریباً 9 ہزار لڑکیوں کی شادی کم عمری میں ہوتی تھی، اور ایسے تقریباً تمام معاملات میں لڑکیوں کی شادیاں بالغ مردوں سے کی جاتی تھیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بہت سے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ریاستوں میں کم عمری کی شادی قانونی ہے، اور یہ کہ اس عمل کے نتیجے میں بدسلوکی اور استحصال کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا نے باضابطہ طور پر 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت اب...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments