فلائی دبئی کی پرواز میں سوار ایک اسرائیلی مسافر نے بدھ کے روز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد مملکت اور اس کے عوام کی جانب سے ملنے والی مدد اور مہمان نوازی پر اظہار تشکر کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی پرواز کے ایک پائلٹ نے اپنے معاون پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور 174 مسافروں کو لے جانے والے طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔ طیارے میں سوار 174 افراد میں سے 166 اسرائیلی شہری تھے۔
واقعے کے بعد خوف زدہ مسافر بالآخر تل ابیب کے قریب بن گوریون ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ طیارے نے ڈرامائی طور پر اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے شمالی سعودی عرب کے شہر تبوک میں واقع شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔
طیارے کے بحفاظت تبوک پہنچنے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں سعودی طبی عملے اور ایئرپورٹ کے اہلکاروں کو اسرائیلی مسافروں کی دیکھ بھال کرتے دیکھا گیا۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی کے مالک الموغ اٹالی نے بن گوریون ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور میزبانی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ان کا اور دیگر مسافروں کا خیال رکھا اور یہ ان کی زندگی میں دیکھی جانے والی بہترین مہمان نوازی تھی۔
الموغ اٹالی نے عرب نیوز سے کہا کہ وہ سعودی عرب کے عوام تک ان کا شکریہ ضرور پہنچائے، جس طرح انہوں نے ان کے ساتھ اور دیگر تمام مسافروں کے ساتھ برتاؤ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں دوبارہ یہاں آنے کا منتظر ہوں اور امید ہے کہ امن قائم ہوگا۔‘
بیشتر عرب ممالک کی طرح سعودی عرب کے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ناقابلِ واپسی پیش رفت کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا پر نشر ہونے والی دیگر ویڈیوز میں سعودی طبی عملے کو اسرائیلی مسافروں کا بلڈ پریشر چیک کرتے بھی دیکھا گیا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ ’سعودی عرب سے مناظر: ایئرپورٹ پر اسرائیلی مسافروں کی دیکھ بھال۔‘
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کی رپورٹر نوعا شپیگل نے بتایا کہ ان کی والدہ بھی طیارے میں سوار تھیں اور بحفاظت اسرائیل پہنچ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میری والدہ ابھی پہنچی ہیں۔ وہ محفوظ ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں۔‘
74 سالہ ڈالیہ شپیگل نیپال میں تعطیلات گزارنے کے بعد دبئی کے راستے اسرائیل واپس آ رہی تھیں۔
ڈالیہ شپیگل نے عرب نیوز کو بتایا کہ مسافروں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کھانا دیا گیا اور سعودی بہت اچھے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عرب نیوز کی جانب سے ان کی خیریت دریافت کرنے پر وہ شکر گزار ہیں اور سعودی عوام کی مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں۔
بن گوریون ایئرپورٹ پہنچنے والے بیشتر مسافروں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔
کچھ مسافروں کا وزیراعظم نیتن یاہو نے ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔ نیتن یاہو نے اس سے قبل ایک ویڈیو جاری کرکے واقعے کی تفصیلات اور یہ بتایا تھا کہ طیارے کے عملے اور مسافروں نے طیارے کو گرنے سے کیسے بچایا۔
سامنے آنے والی ویڈیوز میں طیارے کے اندر دو زخمی پائلٹوں کو فرش پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا جبکہ مسافر اور عملے کے ارکان انہیں طبی امداد فراہم کر رہے تھے۔
تبوک ایئرپورٹ پر کئی گھنٹے قیام کے بعد اسرائیلی مسافروں کو متبادل طیارے کے ذریعے واپس اسرائیل روانہ کر دیا گیا۔
یہ واقعہ بدھ کی صبح اردن کی سرحد کے قریب پیش آیا، جب طیارے کو دبئی سے اڑان بھرے دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔
پرواز کے دوران طیارہ اچانک تیزی سے نیچے جانے لگا اور ہنگامی انتباہ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں طیارے میں موجود فلائی دبئی کے متبادل عملے نے کنٹرول سنبھال لیا اور طیارے کو تبوک میں بحفاظت اتار لیا۔
شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق طیارے کے کپتان اور فرسٹ آفیسر کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے کہا کہ ’مسافروں کو ٹرمینل پر ضروری معاونت فراہم کی گئی۔‘
انتظامیہ کے مطابق سول ایوی ایشن، مسافروں اور طیارے کے عملے کی سلامتی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کی پاسداری اس کی ترجیح ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز میں سوار ایک اسرائیلی مسافر نے بدھ کے روز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد مملکت اور اس کے عوام کی جانب سے ملنے والی مدد اور مہمان نوازی پر اظہار تشکر کیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments