Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

یورپ میں امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ نازک حالت سے بھی آگے ہے : امریکی حکام

Admin
By Admin
Aug 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ROHINGYA AUR ILLEGAL ENTRY PAR SAKHT ACTION KI TAIYARI? DILIP GHOSH KA BAYAN

یورپ میں امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ نازک حالت سے بھی آگے ہے : امریکی حکام
یورپ میں امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ نازک حالت سے بھی آگے ہے : امریکی حکام — August 28, 2026
یورپ میں امریکی دفاعی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکی انٹر سیپٹرز پیٹریاٹ میزائلوں کا معاملہ نازک درجے سے آگے ہے۔ اس کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ ہے۔ یورپ میں امریکہ کے دفاعی عہدے دار اور نیٹو کے عہدے دار نے یہ بات امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

عہدے داروں نے اس تناظر میں کسی ممکنہ روسی حملے کی صورت میں یورپ کے نیٹو ممالک کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا۔

امریکی دفاعی عہدے دار نے کہا سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی انٹر سیپٹرز کے حوالے سے ہے۔ وہ انٹر سیپٹرز کم ہو چکے ہیں جو انتہائی تیز روسی بیلسٹک میزائلوں کو بھی راستے میں ہی روک سکتے ہیں۔ ان عہدے داروں نے ان انٹر سیپٹرز کی کم خریداری ہو سکنے کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم دونوں عہدے داروں نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنے نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔

امریکی دفاعی ذمہ دار نے کہا روس کی طرف سے یورپی فوجی تنصیبات یا فوجی اڈے پر حملہ ہونے کی صورت میں یورپی ممالک کی حالت بھی یوکرین جیسی ہو سکتی ہے۔ کہ ایک کے بعد ایک گھونسا منہ پر لگنے کا خطرہ ہوگا۔

کیونکہ امریکی فوج کے پاس یورپی ملکوں میں مناسب تعداد میں پیٹریاٹ میزائل نہیں ہیں جو روس کے ممکنہ بیلسٹک میزائل حملے کو روک سکتے ہوں۔ انہوں نے کہا یہ روس کی جانب سے کسی ایک بیلسٹک میزائل حملے کو روکنے کی استعداد بھی اس وقت بہت محدود ہے۔ اگر حملہ بیک وقت کئی بیلسٹک میزائلوں سے کر دیا گیا تو صورت حال اور مشکل ہو سکتی ہے۔

یقیناً یہ نتیجہ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا ہے۔ اب جمعہ کے روز ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر 28 فروری کو شروع کی گئی ایران مخالف جنگ کے چھ ماہ جمعہ کے روز آج مکمل ہو رہے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے توقع سے زیادہ طول پکڑنے سے اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی ورائٹی کے باعث امریکہ کو یورپی ملکوں سے بھی پیٹریاٹ مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے ہیں۔ خود اسرائیل کے لیے بھی ایرانی میزائل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

عہدے دار نے کہا ' اگرچہ روس کی جانب سے یورپی ملکوں کے خلاف کوئی بیلسٹک حملہ فوری نہیں ہے لیکن اس کے باوجود امریکی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے ماسکو کا دورہ بھی کیا ہے۔ تاکہ روس کو انتباہ کریں کہ وہ یورپی ملکوں پر حملے سے باز رہے۔ '

تاہم ٹرمپ نے اس دورے کو نمایاں نہیں کیا بلکہ اس کم کم ہونے والے دورہ روس کو ایک معمولی نوعیت کا دورہ ظاہر کیا ہے۔

یورپ اور نیٹو کے حکام کا کہنا ہے کہ روس اس پوزیشن میں ہو سکتا ہے کہ 2030 تک ان اتحادی ملکوں پر حملہ کر دے۔ کیونکہ یہ روس کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا کہ وہ بیک دو محاذوں پر فضائی حملوں کا جواب دے سکے۔ یوکرین بھی سمجھتا ہے کہ روسی میزائلوں کا توڑ صرف امریکی پیٹریاٹ میزائلوں سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

اس لیے امریکی کوشش ہے کہ اس سے پہلے پہلے یورپ میں پیٹریاٹ میزائلوں کی ہونے والی کمی کو پورا کر لے۔ جب یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دیے گئے تھے تو اس وقت ابھی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کی توقع نہیں ہوئی تھی۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک سے منسلک ایڈ آرنلڈ نے کہا یاد رہے امریکہ نے ساڑھے چار سال سے جاری یوکرین جنگ کے دوران یوکرین کو سینکڑوں پیٹریاٹ میزائل دیے ہیں۔ لیکن ایران کے خلاف جنگ چھیڑے جانے کے بعد رخ تبدیل ہونے لگا۔

انہوں نے مزید کہا یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دینے کا معاملہ لگی بندھی نوعیت کا تھا۔ جبکہ مشرق وسطیٰ میں انٹر سیپٹر میزائلوں میں کمی بہت تیزی سے آئی ہے۔ جس کے نتیجے میں سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ دو ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج کو یورپ میں ٹیکنیکل میزائل سسٹم کی بھی شدید قلت ہے۔ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل دشمن کی صفوں کے پچھے حملہ کرنے کے لیے بہت کارآمد ہیں۔

نیٹو کے ایک سینیئر ترجمان مارٹن او دونیل نے کہا یہ تاثر درست نہیں ہے کہ نیٹو کے پاس پیٹریاٹ میزائل کی کمی ہے۔ نیٹو ملک اس چیز کی استعداد رکھتے ہیں کہ اپنے فضائی دفاع کے لیے کافی ہتیھیار دستیاب ہیں۔ ایسے کسی بھی حملے کو روک سکتے ہیں۔ ہمارے پاس وافر دفاعی وسائل ہیں کہ یوکرین کو بھی دیتے رہیں۔

پینٹا گون کے چیف ترجمان سین پارمیل نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کی کمی کی باتیں بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ہمارے پاس کسی بھی جگہ اور وقت پر حملہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہے۔ مگر وقت کا تعین صدر ٹرمپ کریں گے۔

یورپ میں امریکی دفاعی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکی انٹر سیپٹرز پیٹریاٹ میزائلوں کا معاملہ نازک درجے سے آگے ہے۔ اس کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ ہے۔ یورپ میں امریکہ ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn