بدھ کے روز نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نیپالی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔
اس سے قبل جمعرات کی شب نیپالی حکام نے بتایا تھا کہ 900 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 500 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی ہے کہ حکام نے تبت میں پھنسے 555 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے بعد تبت سے معلومات بہت محدود مقدار میں سامنے آئی ہیں، جس کی بڑی وجہ چین کے سخت میڈیا ضوابط ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں یا ان سے الگ ہیں۔
زنہوا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نکالے گئے سیاحوں کی شہریت کیا تھی۔ تاہم انڈیا، آسٹریلیا اور امریکہ نے کہا ہے کہ ان کے شہری بھی اس آفت میں لاپتا افراد میں شامل ہیں۔
بدھ کے روز نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments