شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکالنے کے قدم کے بعد امریکہ نے شام میں عبوری انصاف کے راستے کی حمایت کی تصدیق کی اور دمشق اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان تعاون کا خیرمقدم کیا۔
اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی نمائندہ تامی بروس نے کہا کہ امریکہ اب شام کو دہشت گردی کا سرپرست ملک قرار نہیں دیتا ۔ انہوں نے اس قدم کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی، سکیورٹی اور انسانی ترجیحات کے حوالے سے شام کی پیشرفت اور مسلسل کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
تامی بروس نے شام کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران گفتگو میں مزید کہا کہ شام پر سے پابندیاں ہٹانے سے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کھلیں گے۔ اس سے ایک مستحکم، متحد شام کی بحالی میں مدد ملے گی جو اپنی سرحدوں کے اندر اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں اور رکن ممالک سے شامی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے اور اس کے اہداف کے حصول کے لیے اس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شام کی کوششوں کی مسلسل حمایت کرنے اور بین الاقوامی اتحاد کی رکنیت کے فریم ورک سمیت شام کی حاصل کردہ پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کی واشنگٹن کی خواہش کی تصدیق کی۔
تامی بروس کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے کے چند دنوں بعد سامنے آیا ہے۔ اس قدم کا شامی صدر احمد الشرع نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پچھلے دور سے نکلنے اور ترقی اور دوبارہ تعمیر کے راستے کھولنے کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شام کے دوست اور حامی ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔
شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکالنے کے قدم کے بعد امریکہ نے شام میں عبوری انصاف کے راستے کی حمایت کی تصدیق کی اور دمشق اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایج...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments