امریکی خاتونِ اول نے روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کر دیا۔
امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جمعہ کے روز روس اور یوکرین کے درمیان یوکرین کے جنوبی شہر اولیشکی میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو ممکن بنانا اور ان شہریوں کے انخلاء میں سہولت فراہم کرنا ہے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مقامی نوعیت کی جنگ بندی 29 اکتوبر سے شروع ہوگی۔
میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اولیشکی میں صورتحال انتہائی سنگین ہے اولیشکی جنگی محاذ پر واقع ایک ایسا شہر ہے جو تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے یہاں باقی رہ جانے والی آبادی میں زیادہ تر معمر افراد شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی شدید ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اولیشکی کے عوام کو بجلی کی محدود فراہمی میسر ہے وہ بارودی سرنگوں سے اٹی سڑکوں کے درمیان رہ رہے ہیں اور انہیں مسلسل فوجی حملوں کا سامنا ہے یہ بات بالکل واضح تھی کہ اگر میں مداخلت نہ کرتی تو شہر میں انسانی امداد پہنچانا اور معمر افراد کو وہاں سے نکالنا ناممکن ہوتا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ خاتونِ اول اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط طے کرنے کے لیے براہِ راست روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ کام کیا ہے۔
امریکی خاتونِ اول نے روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کر دیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments