نئی دہلی : اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے منگل کو امریکی عدالت کی جانب سے ان کے اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے عدالتی عمل کے تئیں گہرے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دور کے باوجود سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا۔گوتم اڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس پورے چیلنجنگ دور میں ان کا یقین سچ، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر قائم رہا۔ انہوں نے امریکی عدالت کے فیصلے کو عدالتی عمل کے احترام اور قانون کی بالادستی کی اہم مثال قرار دیا۔
رائٹرز کے مطابق، پیر کو نیویارک کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفیس نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے۔ یہ فیصلہ وفاقی استغاثہ کو مقدمہ واپس لینے کی اجازت دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ جج نے اس سے قبل استغاثہ سے الزامات واپس لینے کی وجوہات کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔الزامات خارج کرتے ہوئے جج گاروفیس نے کہا کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ اڈانی گروپ کی مبینہ سرمایہ کاری کی یقین دہانی نے امریکی محکمہ انصاف کے فیصلے کو متاثر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاقی استغاثہ کی جانب سے مقدمات ختم کرنے کے فیصلوں کا جائزہ لینے میں ججوں کا کردار محدود ہوتا ہے۔
گوتم اڈانی اور دیگر افراد پر بھارت میں شمسی توانائی کے معاہدوں سے متعلق مبینہ رشوت خوری کی اسکیم میں ملوث ہونے اور امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، رواں سال مئی میں امریکی محکمہ انصاف (DoJ) نے عدالت سے ان الزامات کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔اس کے بعد نیویارک کے مشرقی ضلع کی عدالت نے محکمہ انصاف سے مزید وضاحت طلب کی۔ امریکی حکام کے جواب کے بعد قانونی ماہرین کا خیال تھا کہ عدالت محکمہ انصاف کے مؤقف کی حمایت کر سکتی ہے۔
4 جولائی کو امریکی محکمہ انصاف نے عدالت کو بتایا تھا کہ گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف یہ فوجداری مقدمہ ’’شروع ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘۔ محکمہ نے عدالت سے تمام الزامات مستقل طور پر خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔DoJ کا مؤقف تھا کہ مقدمہ قانونی طور پر کمزور تھا، اس کا بنیادی تعلق بھارت سے تھا اور موجودہ حالات میں اس کی پیروی کرنا انصاف کے مفاد میں نہیں تھا۔ محکمہ انصاف نے کہا کہ وسیع جائزے کے بعد مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ واضح ہو گیا تھا۔محکمہ نے یہ بھی کہا کہ مبینہ سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر بھارت میں ہوئی تھیں اور امریکی سیکیورٹیز قوانین کے تحت اس معاملے کو اہم دائرہ اختیار سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ اڈانی گروپ کی امریکا میں مجوزہ سرمایہ کاری سے منسلک ہو سکتا ہے۔ پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر ٹرینٹ میک کوٹر نے کہا کہ سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہ بھی ہوتا تو وہ سیکیورٹیز سے متعلق الزامات ختم کرنے کی درخواست کرتے۔ ان کے مطابق ممکنہ سرمایہ کاری نے فیصلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments