امریکی وزارت خارجہ کے "انعام برائے انصاف" پروگرام کے تحت داعش خراسان کے رہنما ثناء اللہ غفاری کی شناخت یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 8 ملین ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
افغان خبر رساں ایجنسی "خاما پریس" کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ غفاری جو شہاب المهاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1994ء میں افغانستان میں پیدا ہوا تھا اور اس وقت داعش خراسان کی قیادت کر رہا ہے، جو افغانستان اور پڑوسی ممالک میں سرگرم تنظیم کا علاقائی بازو ہے۔
"انعام برائے انصاف" پروگرام کے مطابق ثناء اللہ غفاری کو جون 2020ء میں تنظیم کی مرکزی قیادت کی جانب سے داعش خراسان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
قیادت کا منصب سنبھالنے سے پہلے وہ کابل میں سرگرم تھا اور مسلح حملوں، خودکش دھماکوں اور دیگر پیچیدہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور کوآرڈینیشن میں ملوث رہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غفاری افغانستان میں داعش خراسان کے حملوں کی منظوری اور تنظیم کے مالی وسائل کی نگرانی کا ذمہ دار رہا ہے، جنہیں اس کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے "انعام برائے انصاف" پروگرام کے تحت داعش خراسان کے رہنما ثناء اللہ غفاری کی شناخت یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر 8 ملین ڈالر تک کے انعام ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments