کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی کی مسودہ تجویز کے منظر عام پر آتے ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 7 نقاطی اعتراضات درج کرائے ہیں۔ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ حد بندی کی کارروائی میں شفافیت کا فقدان ہے اور جس انداز میں سڑکوں کے نام شامل کیے گئے ہیں وہ مبہم اور گمراہ کن ہیں۔
ریاستی محکمہ برائے شہری ترقی کی جانب سے 209 وارڈوں کی مسودہ فہرست جاری کیے جانے کے بعد، سی پی آئی (ایم) نے میونسپل کمشنر کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کرتے ہوئے اس عمل پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
سڑکوں اور سرحدوں کی غلط نشان دہی: خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ نئے وارڈوں کی تشکیل میں شمالی، جنوبی، مشرقی اور مغربی سمتوں کی سڑکوں کے نام درست طریقے سے درج نہیں کیے گئے۔ اس کی وجہ سے مجوزہ وارڈوں کی حقیقی حدود واضح نہیں ہو پا رہی ہیں، جس سے عوام میں شدید تشویش اور الجھن پھیل رہی ہے۔
وقت کی کمی: پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اعتراضات اور متبادل تجاویز جمع کرانے کے لیے دیا گیا وقت انتہائی کم ہے، جس سے اس پورے عمل کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے مطالبہ کیا ہے کہ تجاویز کی آخری تاریخ میں کم از کم 10 دن کی توسیع کی جائے۔
سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام: ڈرافٹ میں سیاسی جماعتوں کی عدم شمولیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حد بندی کے اس اہم عمل میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا ضروری تھا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیاسی فریقین کے ساتھ فوری اجلاس بلایا جائے۔
عوامی سماعت کا مطالبہ: سی پی آئی (ایم) کے مطابق عوام کی رائے سننا اس عمل کا لازمی حصہ ہے، لیکن کمیشن نے ابھی تک 'پبلک ہیئرنگ' سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔
نقشہ جات کی عدم موجودگی: مکتوب میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ نئی حدود کی تجویز پیش کرتے وقت متعلقہ جغرافیائی نقشے یا موجودہ اسمبلی حلقوں کے بوتھ نمبروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی کی مسودہ تجویز کے منظر عام پر آتے ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 7 نقاطی اعتراض...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments