امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید حد سے آگے نکل گیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو مذاکرات کے لیے ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اوہائیو کے شہر ینگز ٹاؤن میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ شاید امریکا نے ایرانی قیادت کے معاملے میں حد سے زیادہ کارروائی کی، کیونکہ اب یہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مذاکرات کس سے کیے جائیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئی بھی ایران کا صدر بننے کے لیے تیار نہیں، ایران کے پاس اب نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، جبکہ ملک شدید مہنگائی اور مالی مشکلات کا شکار ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنی فضائیہ اور تمام 159 بحری جہاز کھو چکا ہے اور یہ جہاز اب سمندر کی تہہ میں ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ معاہدہ کیسے کیا جائے۔
ٹرمپ نے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی اہم ریاست قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انتہا پسند بائیں بازو کے احمق کہہ رہے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں، مجھے بالکل یقین نہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ روس اور چین ایران کو بڑے پیمانے پر مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ناقدین اور مخالفین کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک ایسا کر بھی رہے ہیں تو یہ مدد نہایت محدود سطح پر ہو سکتی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ ایسا بالکل بھی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے یقین نہیں کہ ماسکو یا بیجنگ تہران کی مدد کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہوتی تو واشنگٹن کو اس کا علم ہو جاتا بلکہ بہت جلد علم ہو جاتا۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ماسکو اور بیجنگ تہران کی مدد کرتے ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جولائی میں بھی کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں مداخلت کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت برا ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید حد سے آگے نکل گیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو مذاکرات کے لیے ایرانی حکام کی شناخت میں مشکلات کا ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments