ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر ایرانی حکام کا امریکا کا ویزا جاری کردیا۔
امریکی ٹی وی نے یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتائی کہ صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک جانا چاہتے ہیں۔
امریکی ٹی وی کے مطابق ایران کے اہم وفد اور ضروری اسٹاف کا ویزا منظور کیا گیا ہے تاہم وفد میں شامل حکام کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے۔
محکمہ خارجہ کے اہلکار نے بیان میں کہا کہ میزبان ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائی گئی ہیں، ایرانی حکام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے ہفتے میں شرکت کر سکیں گے تاہم یہ دورہ سفری پابندیوں کے تحت ہوگا اور ان پر بعض پابندیاں عائد ہونگی۔
دوسری جانب امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ 81 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس جمعہ سے نیویارک میں شروع ہورہا ہے اور یہ 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔
امریکا نے نیویارک میں موجود ایرانی اقوامِ متحدہ مشن کے حکام اور ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کے لگژری اشیاء کی خریداری کرنے پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ امریکا ایرانی حکام کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں قیام کے دوران لگژری اشیاء کی خریداری کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے نیویارک کے علاقے میں موجود ریٹیلرز کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں سے آگاہ رہیں اور ممنوعہ خریداری میں ایرانی وفد کی معاونت نہ کریں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر ایرانی حکام کا امریکا کا ویزا جاری کردیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments