امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، کیونکہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ اب وہاں سے بہت سے جہاز گزر رہے ہیں اور ہم انہیں گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ وہاں اب کوئی بارودی سرنگیں نہیں ہیں۔ شاید آپ نے کل ہمارا یہ اعلان دیکھا ہوگا۔ ہم نے تمام بارودی سرنگوں کا خاتمہ کر دیا ہے، اور آبنائے اب فعال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکی فوجی اور معاشی دباؤ کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا یہ امور ایک بہت بڑی فتح کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ہم یہاں بہت جلد ایک بڑی فتح حاصل کریں گے۔
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز، جس میں ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی جہاز رانی کو متاثر کیا اور اس کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کی نقل و حرکت کو مفلوج کر دیا تھا، اب مکمل طور پر کھلی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سٹریٹجک آبنائے ہرمز سے متعلق ایک تنازع کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے جنگ کے آغاز کے بعد سے تہران نے عملی طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر کے اس کا جواب دیا۔ آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کی نقل و حرکت ابھی بھی تقریباً معطل ہے جس سے عالمی توانائی کی منڈیاں متاثر ہو رہی ہیں ۔ واشنگٹن آبنائے میں جہاز رانی کو جنگ کے آغاز سے پہلے والی صورتحال پر واپس لانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ 99.9 فیصد اصل بات یہی ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ دیوانے ہیں اور وہ اسے استعمال کریں گے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ انہوں نے ایران کو دو بار اس سے روکا ہے۔
امریکی صدر نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو فروری میں اپنے والد علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں، ابھی تک زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ وہ مر چکے ہیں۔ وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان کے جسم کا بایاں حصہ، ان کا بازو، ان کی ٹانگ، شدید زخمی ہوا تھا۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ مر چکے ہیں۔
ایک اور تناظر میں ٹرمپ نے کہا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا ماسکو کا دورہ تقریباً معمول کا تھا۔ وہ یوکرین میں جنگ پر تبادلہ خیال کے لیے روسی دارالحکومت گئے تھے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ تقریباً روٹین کا تھا، ہم یوکرین کے ساتھ جنگ ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس دورے کا ایران یا نیٹو کے لیے روسی دھمکیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اگر وہ 2022 میں امریکہ کے صدر ہوتے تو یہ جنگ نہ چھڑتی۔
اسی حوالے سے ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے پیش رو جو بائیڈن کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 25 ملین افراد امریکہ میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ جیلوں سے بھی آئے جن میں منشیات کے تاجر، قاتل اور دیگر شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments