خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں اور قول و قرار کی پاسداری کرے گا۔
جب مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ حوثیوں کے خلاف مزید اقدام کرنے کے لیے تیار ہیں، تو انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’سعودی عرب کے ساتھ ہمارا انتہائی مضبوط دفاعی معاہدہ موجود ہے، اور ہم اس معاہدے میں کی گئی اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔‘
روبیو نے صدر ٹرمپ کے پاس موجود ممکنہ فوجی اختیارات پر تفصیلی بات کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب امریکا کا ایک اہم حکمتِ عملی (سٹریٹجک) دفاعی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا ’امریکہ نے ان سے جو وعدے اور معاہدے کیے ہیں، ہم ان کی پاسداری کریں گے اور اس وقت بھی ان پر عمل پیرا ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کے پاس ’متعدد اختیارات موجود ہیں۔‘
یہ بیانات حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی ڈرون اور میزائل حملوں کی سیریز کے بعد مملکت میں پیدا ہونے والے سلامتی خدشات کے پیش نظر سامنے آئے ہیں۔
سعودی عرب اور امریکہ نے نومبر 2025 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہِ واشنگٹن کے دوران ایک سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قائم آٹھ دہائیوں پر محیط دفاعی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔
وائٹ ہاؤس نے اس وقت کہا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جارحیت کا راستہ روکنا اور واشنگٹن اور ریاض کے درمیان فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس دورے کے دوران سعودی عرب کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ بھی دیا تھا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن مملکت پر ہونے والے تازہ ترین حملوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور انہوں نے خطے کی توانائی تنصیبات پر حملوں کو "شدید تشویشناک" قرار دیا۔
انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں حملوں کے بعد عارضی طور پر بند ہونے والی سعودی آئل پائپ لائن کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ انفراسٹرکچر نہ صرف سعودی معیشت بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
روبیو نے ایران پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں توانائی اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے کرنے والے گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ایرانی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں ان تنظیموں کی فعال طور پر حمایت کرتی ہے جو اہم انفراسٹرکچر، توانائی تنصیبات اور عام شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں تہران کی حمایت یافتہ عراقی شیعہ ملیشیاؤں کے ملوث ہونے کا بھی قوی امکان ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کے تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں اور ق...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments