✍️ محمد ثاقب حسامی
وہ صبح بھی کیا صبح تھی!
جب غلامی کی طویل رات کے بعد ہندوستان کے افق پر آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ فضاؤں میں ترنگا لہرا رہا تھا، آنکھوں میں خواب تھے، دلوں میں امیدیں تھیں اور زبانوں پر ایک ہی صدا !تھی: آزادی۔
مگر ذرا ٹھہریے!
اس آزادی کے جشن میں چند لمحوں کے لیے اپنی خوشی کو خاموش کیجیے اور تاریخ کے ان اوراق کو پلٹیے جن پر سیاہی نہیں، شہیدوں کا لہو لکھا ہے۔ یہ آزادی کسی ایک قوم، ایک مذہب یا ایک طبقے کی جاگیر نہیں؛ یہ ان تمام ہندوستانیوں کی امانت ہے جنہوں نے اس سرزمین کی آزادی کے لیے اپنے آرام، اپنے گھر، اپنی جوانیاں اور اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔
علمائے دیوبند آزادی کی جدوجہد کا ایک روشن باب!
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں علمائے دیوبند کی جدوجہد ایک اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے وابستہ متعدد علماء نے برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی اور فکری جدوجہد میں حصہ لیا۔ ان کے نزدیک وطن کی آزادی محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری بھی تھی۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تحریکِ ریشمی رومال برطانوی حکومت کے خلاف ایک بڑی منصوبہ بندی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کرکے مالٹا بھیج دیا گیا۔ ان کے ساتھ دیگر علماء نے بھی قید و بند اور سختیاں برداشت کیں۔
مولانا حسین احمد مدنی نے بھی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی آواز اس زمانے میں بھی بلند رہی جب آزادی کی بات کرنا آسان نہیں تھا۔ اسی طرح جمعیت علماء ہند کے متعدد علماء نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ہندوستان کی مشترکہ قومیت اور باہمی اتحاد کی حمایت کی۔
یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی داستان میں مسلمانوں اور خصوصاً علماء کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے تصویر مکمل نہیں ہوتی۔
مگر آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں،
یہ سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں،
یہ سوال صرف ہندو سے نہیں،
یہ سوال صرف مسلمان سے نہیں—
یہ سوال ہم سب سے ہے!
جن لوگوں نے ایک آزاد ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، کیا انہوں نے یہ خواب دیکھا تھا کہ ایک دن ہندوستانی، ہندوستانی سے مذہب کے نام پر نفرت کرے گا؟
کیا انہوں نے یہ سوچا تھا کہ مندر اور مسجد کے درمیان فاصلے دلوں تک پہنچ جائیں گے؟
کیا انہوں نے یہ چاہا تھا کہ ایک افواہ شہر کو جلا دے، ایک اشتعال انگیز تقریر انسان کو انسان سے دور کر دے، اور سیاسی مفادات کے لیے مذہب کو نفرت کا ہتھیار بنا دیا جائے؟
یقیناً نہیں!
نفرت کی آگ میں سب سے پہلے انسانیت جلتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندو مسلم کشیدگی کے واقعات کبھی کبھی پورے معاشرے کے امن کو متاثر کرتے ہیں۔ مذہبی تعصب، اشتعال انگیزی، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں، ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور معمولی اختلاف کو فرقہ وارانہ رنگ دینا—یہ سب وہ زہر ہیں جو قوم کی رگوں میں آہستہ آہستہ سرایت کرتے ہیں۔
مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چند افراد کی غلطی کو پوری قوم کی پہچان بنا دینا بھی ناانصافی ہے۔
ایک شرپسند ہندو پورا ہندو سماج نہیں،
ایک شرپسند مسلمان پورا مسلم سماج نہیں۔
انسان کو اس کے کردار سے پہچانیے، اس کے مذہب کے نام پر اس سے نفرت نہ کیجیے۔
ہندوستان کی طاقت کیا ہے؟
ہندوستان کی طاقت اس کے ایٹمی ہتھیاروں سے پہلے اس کے اتحاد میں ہے۔
اس کی خوبصورتی صرف برف پوش پہاڑوں، سرسبز میدانوں اور وسیع دریاؤں میں نہیں؛ اس کی اصل خوبصورتی تو اس منظر میں ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانیں، تہذیبیں اور روایات رکھنے والے لوگ ایک ہی وطن کی چھاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔
یہی ہندوستان کی روح ہے۔
یہاں اذان کی آواز بھی ہے اور مندر کی گھنٹیاں بھی؛ یہاں گرجا گھروں کی دعائیں بھی ہیں اور گردواروں کی مقدس آوازیں بھی۔
اختلاف باقی رہے، مگر احترام باقی رہے۔
عقیدہ الگ ہو، مگر انسانیت مشترک رہے۔
راستے الگ ہوں، مگر وطن ایک رہے۔
مثبت ہندوستان اور منفی ہندوستان
آج کا ہندوستان ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، خلائی تحقیق، صنعت اور کئی دوسرے شعبوں میں ملک نے قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔ ہمارے نوجوان دنیا کے مختلف میدانوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
بے روزگاری، غربت، بدعنوانی، تعلیم کی کمی، مذہبی نفرت، جھوٹی خبریں اور سماجی تقسیم جیسے مسائل اب بھی ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
اگر ہندوستان چاند تک پہنچ جائے مگر انسان کے دل تک نہ پہنچ سکے، تو ترقی کا ایک بڑا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔
اگر ہمارے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی ہو مگر ایک دوسرے کے لیے احترام نہ ہو، تو ہماری ترقی بے معنی محسوس ہوگی۔
آزادی کا جشن یا آزادی کا امتحان؟
15 اگست ہمیں صرف جشن منانے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ اپنا احتساب کرنے کا موقع بھی دیتا ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا:
کیا ہم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کے وارث بننے کے لائق ہیں؟
کیا ہم اپنے بچوں کو نفرت کا ورثہ دیں گے یا محبت کا؟
کیا ہم انہیں بتائیں گے کہ تمہارا پڑوسی تمہارا دشمن ہے، یا یہ سکھائیں گے کہ اختلاف کے باوجود انسان کی عزت ضروری ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—
کیا ہم ہندوستان کو وہ ہندوستان بنا سکیں گے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟
آج جب ہم ترنگا لہراتے ہیں تو ذرا ان بے شمار گمنام قربانیاں دینے والوں کو بھی یاد کریں جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں شاید نہ ہوں، مگر جن کا لہو اس مٹی میں ضرور شامل ہے۔
آئیے اس 15 اگست پر صرف پرچم نہ لہرائیں،
اپنے کردار کو بھی بلند کریں۔
صرف قومی ترانہ نہ گائیں،
اپنے دل سے نفرت کا شور بھی خاموش کریں۔
صرف آزادی کا جشن نہ منائیں،
آزادی کی ذمہ داری بھی سمجھیں۔
اور علماءِ دیوبند سمیت ان تمام مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو سلام پیش کریں جنہوں نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے اپنے حصے کا چراغ جلایا تھا۔
کیونکہ قومیں صرف آزادی حاصل کرکے زندہ نہیں رہتیں؛
قومیں آزادی کی قدر کرکے زندہ رہتی ہیں۔
آج ضرورت ہے کہ ہم تاریخ کے شہیدوں کے خون کو نفرت کی آگ میں نہیں، اتحاد کے چراغ میں جلائیں۔
ہندوستان صرف ہمارا وطن نہیں، ہماری مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔
آئیے عہد کریں:
نہ نفرت کو پھیلنے دیں گے، نہ افواہ کو سچ بننے دیں گے؛
نہ مذہب کو سیاست کی نفرت کا ایندھن بننے دیں گے، نہ انسانیت کو کمزور ہونے دیں گے۔
یہی آزادی کا احترام ہے۔
یہی شہیدوں کو خراجِ عقیدت ہے۔
اور شاید یہی ایک مضبوط، پُرامن اور روشن ہندوستان کی طرف ہمارا سب سے بڑا قدم بھی ہے۔
Source: Admin
6 months ago
زکریا اسٹریٹ کولوٹولہ کے معین الدین قریشی عرف مونا بھائی کا انتقال، آج تدفین
7 months ago
مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے آل انڈیا اردو بک فیئر کاافتتاح
7 months ago
فرحت احساس کی کلیات ’مجھ کو مری یاد آ رہی ہے‘ (اردو/دیوناگری ) کی پُروقار رسمِ اجرا
7 months ago
منصور حسن سے جڑی کچھ یادیں
7 months ago
شیب پور میںمفت صحت کی جانچ شروع
7 months ago
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی جشن غالب تقریبات کا افتتاح
6 months ago
زکریا اسٹریٹ کولوٹولہ کے معین الدین قریشی عرف مونا بھائی کا انتقال، آج تدفین
7 months ago
مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے آل انڈیا اردو بک فیئر کاافتتاح
7 months ago
فرحت احساس کی کلیات ’مجھ کو مری یاد آ رہی ہے‘ (اردو/دیوناگری ) کی پُروقار رسمِ اجرا
7 months ago
منصور حسن سے جڑی کچھ یادیں
7 months ago
شیب پور میںمفت صحت کی جانچ شروع
7 months ago
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی جشن غالب تقریبات کا افتتاح
6 months ago
معروف اسلامک اسکالر مفتی سلمان ازہری کی ہوڑہ آمد تاجدار مدینہ کانفرنس میں شرکت کریں گے
6 months ago
بھوٹ بگان اردو گرلس ہائی اسکول کی طالبات میں ممتا بنرجی کے سبوز ساتھی اسکیم کے تحت سائیکلیں دی گئی ہیں: ریاض احمد
6 months ago
نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 129ویں یومِ پیدائش ,طبی جانچ کیمپ، 100 سے زائد افراد نے خون دیا
6 months ago
حاجی پور:ہزاروں فرزندان توحید نے نم آنکھوں کے ساتھ محمد نور عالم کو کیا سپردخاک
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments