یمنی مسلح افواج نے سنیچر کو بتایا کہ انہوں نے تعز گورنریٹ میں حوثیوں کے اجتماعات، فوجی ٹھکانوں اور کمک کو نشانہ بنانے کے لیے 71 ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ان کارروائیوں میں گورنریٹ کے کئی علاقوں میں حوثیوں کی نقل و حرکت اور فوجی اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا، ملیشیا کے ارکان ہلاک و زخمی ہوئے۔ تازہ حملوں سے حوثی ملیشیا کی اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
یمنی کمانڈر نے العربیہ کو بتایا ’ہم نے تعز شہر کا محاصرہ کرنے کے لیے جبل ہان پر کنٹرول حاصل کرنے کی حوثیوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ جھڑپیں رات بھر جاری رہیں۔‘
یمنی جنگی طیاروں نے تعز کے جنوب مں حیفان اور راسن کے محاذوں پر حوثی ٹھکانوں اور کمک کو نشانہ بنایا۔
علاوہ ازیں یمنی مسلح افواج نے شدید جھڑپوں کے بعد جنوب مشرقی تعز میں سامع قلعے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ایک فوجی ذریعے نے یمنی خبر رساں ایجنسی سبا کو بتایا مسلح افواج نے سامع ڈسٹرکٹ کے عوامی مزاحمتی جنگجوؤں کی حمایت سے شدید لڑائی کے بعد قلعے پر قبضہ کیا۔
ذریعے نے مزید بتایا اس کارروائی میں حوثی ملیشیا کے درجنوں ارکان ہلاک و زخمی ہوئے اور دیگر علاقے سے فرار ہو گئے۔
یمنی مسلح افواج کے جنگی طیاروں نے صنعا میں حوثیوں کے کئی مقامات کو بھی نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد دارالحکومت میں شدید دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا ’صنعا میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا کیا گیا ۔ مسلح افواج کے پاس حوثیوں کے خلاف سٹریٹیجک حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘
عینی شاہدین نے بتایا کم از کم چھ فضائی حملوں میں صدارتی محل کے مشرق میں واقع جبل النھدین اور صنعا کے جنوب میں جبل عطان کو نشانہ بنایا گیا۔ ان مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا بڑی تعداد میں جنگی طیارے صنعا کے اوپر مسلسل پروازیں کر تے رہے۔
گزشتہ روزیمنی مسلح افواج نے کہا تھا کہ یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچروں کا استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کے ٹھکانوں، نقل وحرکت اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف 257 درست کارروائیاں کیں۔
یمنی مسلح افواج نے سنیچر کو بتایا کہ انہوں نے تعز گورنریٹ میں حوثیوں کے اجتماعات، فوجی ٹھکانوں اور کمک کو نشانہ بنانے کے لیے 71 ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments