نئی دہلی، 7 اکتوبر: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو 5 ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کی درخواست پر آئے تقسیم شدہ فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے اس معاملے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بنچ کو بتایا کہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ کی جانب سے 23 ستمبر کو سنائے گئے تقسیم شدہ فیصلے اور مشترکہ حکم کو واپس لینے کے لیے ایک عبوری درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اصل عرضی گزار جیا ٹھاکر نے بھی اس سلسلے میں ایک نظرثانی کے بعد دوبارہ غور کی درخواست دائر کی ہے۔
چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد کہا، "ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور مناسب فیصلہ کریں گے۔"
عرضی گزاروں نے جسٹس ستیش چندر شرما کے سلسلے میں جانبداری کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل کے طور پر کام کر رہے ہیں، جس سے اس معاملے میں مفادات کا براہ راست ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ عرضی میں بنچ میں شامل رہے جسٹس ستیش چندر شرما پر 'مفادات کے ٹکراؤ' کا الزام عائد کرتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ پورا معاملہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت کار) قانون، 2023 کی دفعہ 7 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے سے متعلق ہے۔ اس نئے قانون کے تحت انتخابی کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کی جانب سے نامزد ایک مرکزی کابینی وزیر کو شامل کیا گیا ہے۔ اس شق نے مارچ 2023 کی آئینی بنچ کے اس حکم کی جگہ لے لی تھی، جس میں انتخابی کمیٹی میں ہندوستان کے چیف جسٹس کو شامل کیا گیا تھا۔
مرکزی حکومت نے ان عرضیوں کو 5 ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 23 ستمبر کو جسٹس دیپانکر دتہ نے مرکز کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جبکہ جسٹس ستیش چندر شرما نے معاملے کو آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کی حمایت کی تھی۔ تاہم اختلاف رائے کے باوجود دونوں ججوں نے معاملے کو مناسب بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس سوریہ کانت کے پاس بھیجنے کی مشترکہ ہدایت دی تھی۔
اب اس مشترکہ حکم اور جسٹس شرما کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے اسے واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔
نئی دہلی، 7 اکتوبر: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو 5 ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کی درخواست پر آئے تقسیم شدہ فیصلے کو منس...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments