نئی دہلی، 7 اکتوبر : کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے مسلسل دوسرے دن بدھ کو یہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مظاہرہ کیا۔ اس دوران پولیس نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کچھ دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
مسٹر گاندھی اور اتحاد کے کچھ دیگر رہنماؤں کو منگل کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اتحاد کے رہنما آج مظاہرے کے لیے بس میں سوار ہو کر جنتر منتر جا رہے تھے، لیکن پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں پہلے ہی روک دیا، جس کے بعد وہ وہیں سڑک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس نے کچھ دیر بعد مسٹر گاندھی، محترمہ واڈرا اور دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس مسٹر گاندھی کو بارہ کھمبا روڈ تھانے لے گئی، جہاں کچھ دیر بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ منگل کو دونوں رہنماؤں کو کنگز وے کیمپ پولیس تھانے میں حراست میں رکھنے کے بعد دیر رات رہا کیا گیا تھا۔
آج کے مظاہرے میں بھی انڈیا اتحاد کی کئی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر پہنچنے سے پہلے روکے جانے کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے وہیں دھرنا دیا۔ پولیس مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا کو دھرنے کی جگہ سے زبردستی اٹھا کر لے گئی۔ محترمہ واڈرا نے پہلے وہاں سے ہٹنے سے انکار کیا اور وہ زمین پر لیٹ گئیں۔ بعد میں پولیس اہلکار انہیں زبردستی اٹھا کر بارہ کھمبا روڈ پولیس تھانے لے گئے۔
حراست میں لیے جانے کے بعد مسٹر گاندھی نے کہا، "گیانیش کمار کے استعفیٰ دینے تک مظاہرہ نہیں رکے گا۔ ہم تب تک مظاہرہ نہیں روکیں گے، جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے۔ یہ ملک کی سب سے مقدس چیز کی حفاظت کی لڑائی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ جو کچھ کر سکتے ہیں، کریں، لیکن وہ ہمیں روک نہیں سکتے۔ ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔"
انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آئین اور عوام کی آواز کی حفاظت کے لیے ہے اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "ظالم جب جب ظلم کرے گا، اقتدار کے ایوانوں سے چپہ چپہ گونج اٹھے گا انقلاب کے نعروں سے۔"
محترمہ واڈرا نے کہا، "الیکشن کمیشن سے ملنے کا مطالبہ کر رہے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ پولیس نے مارپیٹ کی۔ خاتون پولیس اہلکاروں نے مجھے زمین پر گرا دیا ہے اور مجھے کئی جگہ خراشیں آئی ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عوام کے حق کے لیے لڑتے رہیں گے۔"
پولیس کی جانب سے زبردستی اٹھائے جانے پر محترمہ واڈرا نے کہا، "یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ملک دیکھ رہا ہے... کیا ہو رہا ہے۔" انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ان کے بارے میں نہیں، بلکہ جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں ہے۔
مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا کو حراست میں لیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا، "چاہے کتنے بھی مقدمے کرنے دو، کتنا بھی ڈرانے دو، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، ہنستے رہیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے۔"
ایس آئی آر کی مخالفت میں گزشتہ 2 دن سے جاری دھرنے اور مظاہرے کے دوران مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا کو دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ منگل کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس سے نروچن سدن تک 'جمہوریت بچاؤ مارچ' نکالا تھا۔ پولیس کی جانب سے روکے جانے کے بعد دونوں رہنما آکاشوانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے تھے اور الیکشن کمیشن سے ملنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دن بھر جاری مظاہرے کے بعد دونوں کو دیر شام حراست میں لے کر کنگز وے کیمپ بھیجا گیا تھا، جہاں دیر رات انہیں رہا کر دیا گیا۔
اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ بدھ کی دوپہر کے کھانے پر جمع ہوئے اور وہاں سے مسٹر گاندھی کے ساتھ جنتر منتر پر دھرنے اور مظاہرے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن پولیس نے انہیں جنتر منتر سے پہلے ہی روک دیا۔ مظاہرے میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ کئی ارکان پارلیمنٹ کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
مظاہرے کے دوران یوتھ کانگریس اور پارٹی کی طلبہ شاخ این ایس یو آئی کے کئی کارکنوں کو بھی پولیس نے جنتر منتر سے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور الیکشن کمیشن سے ملاقات کے مطالبے کو لے کر نعرے لگا رہے تھے۔
نئی دہلی، 7 اکتوبر : کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے مسلسل دوسرے دن بدھ کو یہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مظاہرہ کیا۔ اس دورا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments